حادثے کی تفصیلات
شمالی چین کے صوبہ شانسی میں واقع لیوشینیو کوئلے کی کان میں گیس کے ایک خوفناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 90 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ ملک میں گزشتہ 17 برسوں کے دوران کان کنی کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔ سرکاری خبر ایجنسی ژنہوا کے مطابق یہ دھماکہ جمعہ کی رات 7 بج کر 29 منٹ پر اس وقت ہوا جب 247 مزدور زیر زمین موجود تھے۔
اطلاعات کے مطابق 345 امدادی کارکنوں کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا۔ ہفتے کی صبح تک زیادہ تر مزدوروں کو بحفاظت سطح پر نکال لیا گیا تھا، تاہم متعدد افراد کی تلاش کا کام شدت سے جاری ہے۔
صدر شی جن پنگ کا حکم
چین کے صدر شی جن پنگ نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کے علاج کے لیے “بھرپور کوششیں” کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام محکمے اس سانحے سے سبق سیکھیں اور کام کی جگہوں پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے بڑے حادثات کی روک تھام کی جا سکے۔p>
حادثے کی وجہ اور کارروائی
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کان میں کاربن مونو آکسائیڈ نامی انتہائی زہریلی اور بے بو گیس کی مقدار “حد سے تجاوز” کر گئی تھی۔ سرکاری میڈیا نے بتایا کہ کان کنی کمپنی کے ایک ذمہ دار شخص کو “قانون کے مطابق حراست” میں لے لیا گیا ہے۔ یہ دھماکہ 2009 کے بعد چین میں کان کنی کا سب سے بڑا سانحہ ہے، جب صوبہ ہیلونگ جیانگ میں ایک کان کے دھماکے میں 108 افراد مارے گئے تھے۔
شانسی: کوئلے کی کانوں کا مرکز
صوبہ شانسی چین کی کوئلے کی کان کنی کی صنعت کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ حالیہ دہائیوں میں کان کنی کی حفاظت میں بہتری آئی ہے، لیکن اس صنعت میں اب بھی حادثات رونما ہوتے ہیں جہاں حفاظتی پروٹوکول اکثر کمزور اور ضابطے غیر واضح ہیں۔ 2023 میں شمالی اندرونی منگولیا کے علاقے میں کوئلے کی ایک کھلی کان کے منہدم ہونے سے 53 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ چین دنیا کا سب سے بڑا کوئلہ استعمال کرنے والا ملک ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی سرفہرست ہے۔
