geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
November 6, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • France's Protest Aftermath: When Dinner Table Debates Turn Toxicفرانس میں مظاہروں کے بعد خاندانی مباحثے: تشدد کی خبریں، مطالبات نظرانداز
    • Why Some Friends Overshare and Others Wait to Be Askedکیا آپ کی دوستی میں بھی گفتگو کا سارا بوجھ آپ اٹھاتے ہیں؟ ماہرین نے “رضاکار” اور “مہمان” طرزِ گفتگو کے راز کھول دیے
    • Six Autumn Escapes in France You Can Reach Without a Carفرانس میں بغیر گاڑی کے خزاں کی سیر: چھ خوبصورت مقامات جہاں پبلک ٹرانسپورٹ سے پہنچا جا سکتا ہے
    صحت و تندرستی
    • Two Wheels, New Worries: The Hidden Stress of the Urban Cycling Boomسائیکلنگ کی سہولت یا خوف؟ فرانسیسی شہروں میں سائیکل سواروں کی بڑھتی پریشانیاں
    • Beat the Yo-Yo Effect With Protein and Strength Trainingڈائٹ کے بعد وزن واپس بڑھنے سے بچنے کا مؤثر طریقہ: ہر کھانے میں پروٹین اور طاقت کی مشقیں
    • Black Market for Eli Lilly's Retatrutide Raises Alarmغیر منظور شدہ موٹاپا کش دوا ریٹاٹروٹائیڈ کی آن لائن غیر قانونی فروخت پر تشویش
    دلچسپ اور عجیب
    • Justice Takes the Wheel: French Electro Duo to Score GTA VI Soundtrackجسٹس فرانسیسی الیکٹرو جوڑی جی ٹی اے 6 کی ساؤنڈ ٹریک تیار کرے گی
    • Drought and Heatwaves Halve Ardèche Chestnut Harvest as Europe Braces for Price Risesخشک سالی اور گرمی کی لہروں نے فرانس میں شاہ بلوط کی فصل کو تباہ کر دیا
    • Salt Stomping: TikTok's Viral Sleep Hack That Experts Say Doesn't Workسالٹ اسٹامپنگ: کیا نمک پر چلنا واقعی نیند کو بہتر بناتا ہے؟
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Mom Slams School for AI-Generating Adult Photo of 6-Year-Oldامریکی اسکول کا چھ سالہ بچی کی “بالغ شکل” بنانے پر تنازعہ: والدین کی اجازت کے بغیر مصنوعی ذہانت کا استعمال
    • Critical PHP Flaws Take Down Global Government Websitesپی ایچ پی میں خطرناک سیکیورٹی خامیاں، دنیا بھر میں سرکاری ویب سائٹس آف لائن
    • Justice Takes the Wheel: French Electro Duo to Score GTA VI Soundtrackجسٹس فرانسیسی الیکٹرو جوڑی جی ٹی اے 6 کی ساؤنڈ ٹریک تیار کرے گی
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

چین: پاکستانیوں کی لاپتہ ایغور بیویاں رہا مگر شرائط کے ساتھ

May 1, 2019 1 1 min read
Chinese Wife
Share this:

Chinese Wife

چین (جیوڈیسک) پاکستانی شوہروں کی وہ ایغور بیویاں جو 2017ء میں لاپتہ ہو گئی تھیں، انہیں اب رہا کر دیا گیا ہے۔ تاہم ان کے شوہروں کا کہنا ہے کہ ان کی یہ رہائی اس قیمت پر ہوئی ہے کہ انہیں چینی معاشرے میں انضمام کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

چین کے مغربی صوبہ سنکیانگ سے تعلق رکھنے والی 40 کے قریب ایسی خواتین، جن کی شادی ہمسایہ ملک پاکستان سے تعلق رکھنے والے تاجروں سے ہوئی تھی، 2017ء کے دوران چینی حکومت کی طرف سے شدت پسندی کے خلاف آپریشن کے دوران سے لاپتہ تھیں۔ یہ اُن قریب ایک ملین افراد میں شامل تھیں، جنہیں چینی حکومت کی طرف سے قائم کردہ حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ ان مراکز پر عالمی سطح پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے تاہم چین کا موقف ہے کہ یہ حراستی مراکز نہیں بلکہ پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز ہیں۔

زیر حراست رہنے والے بعض افراد پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ انہیں محض اس وجہ سے ان کیمپوں میں رکھا گیا کیونکہ وہ اسلامی شعار پر عمل کرتے تھے جن میں داڑھی رکھنا یا نقاب کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

رہا ہونے والی ان خواتین کے شوہروں کا کہنا ہے کہ انہیں حراست کے دوران اور رہائی کے بعد بھی اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ ایسے کام کریں جو اسلام میں حرام ہیں۔

سنکیانگ میں اپنے سسرال کے گھر حال ہی میں جانے والے ایسے ہی ایک تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’اس نے (میری بیوی) نے بتایا کہ انہیں سور کا گوشت کھانا پڑتا تھا اور شراب پینی پڑتی تھیں۔ اور یہ سب اُسے اب بھی کرنا پڑتا ہے۔‘‘

اس تاجر کے مطابق اس کی بیوی کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر وہ واپس نہیں جانا چاہتی تو اسے حکام کی تسلی کے لیے یہ سب کام ابھی بھی جاری رکھنا ہوں گے اور اسے مذہبی خیالات ترک کرنا ہوں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے سسرال میں موجود قرآن کی جگہ اب چین سے متعلق کُتب فراہم کی گئی ہیں۔

چین کی قدیم شاہراہِ ریشم پر واقع شہر کاشغر میں دن میں تین بار الارم بجتا ہے اور دکاندار حکومت کی طرف سے دیے گئے لکڑی کے ڈنڈے تھامے فوراً اپنی دکانوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ پولیس کی نگرانی میں منظم کی جانے والی ان انسدادِ دہشت گردی مشقوں کے دوران یہ دکاندار چاقو لہرانے والے فرضی حملہ آوروں کے خلاف لڑتے ہیں۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے بعض تاجروں کا خیال ہے کہ ان کی بیویوں کو پاکستان سے تعلق کی بناء پر ہی حراست میں رکھا گیا۔ زیر حراست رہنے والے بعض افراد پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ انہیں محض اس وجہ سے ان کیمپوں میں رکھا گیا کیونکہ وہ اسلامی شعار پر عمل کرتے تھے جن میں داڑھی رکھنا یا نقاب کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنکیانگ میں بنائے گئے حراستی مراکز کے خلاف بین الاقوامی برادری کے بڑھتی ہوئی تنقید اور چین کے پاکستان کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھنے کے بعد چینی حکام نے دو ماہ قبل ایسی خواتین کو رہا کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

پاکستانی علاقے گلگت بلتستان کی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی تاجروں کی ایغور مسلمان بیویوں کی اکثریت کو رہا کیا جا چکا ہے۔ گلگت بلتستان کا علاقہ چین کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔

اے ایف پی نے ایسے نو شوہروں کا انٹرویو کیا جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی بیویوں کو آئندہ تین ماہ تک سنکیانگ چھوڑنے کی اجازت نہیں، جس دوران ان پر گہری نگاہ رکھی جائے گی۔ قیمتی پتھروں کا کاروبار کرنے والے ایک تاجر کے مطابق اس کی بیوی کی رہائی کی شرط یہ کہ ’’وہ چینی طرز معاشرت اختیار کرنے کے حوالے سے اس کے رویے پر نظر رکھیں گے اور اگر انہیں لگا کہ وہ ان کے معیار پر پورا نہیں اتر رہی تو پھر اسے دوبارہ واپس بھیجا جا سکتا ہے۔‘‘

ایسے خاندانوں کے مطابق انہیں اپنی بیویوں اور ماؤں کی واپسی کی خوشی تو بہت ہوئی لیکن یہ خواتین اب ایک طرح سے ان کے لیے اجنبی بن کر رہ گئی ہیں۔ پتھروں کا کاروبار کرنے والے اس تاجر کے مطابق، ’’میری بیوی نے بتایا کہ اسے رقص پر مجبور کیا جاتا تھا اور اسے جسم کو آشکار کرنے والے کپڑے پہنے اور کیمپ میں شراب پینے پر مجبور کیا جاتا تھا۔‘‘ اس تاجر کے مطابق اس کی بیوی کے پاس رہنمائی کی ایک کتاب ہے جس میں مختلف چی‍زوں کو سبز اور سرخ رنگ سے واضح کیا گیا ہے، مثال کے طور پر مسجد پر سرخ نشان لگایا گیا ہے جبکہ چینی پرچم کو سبز نشان سے واضح کیا گیا ہے۔

اس تاجر کے مطابق، ’’پہلے وہ باقاعدگی سے نماز پڑھتی تھی مگر اب ایسا نہیں ہے جبکہ وہ اب کبھی کبھی ریستوران میں جا کر شراب بھی پیتی ہے۔‘‘

Share this:
Emperor Akihito
Previous Post جاپانی شہنشاہ آکی ہیٹو کی تخت سے دستبرداری، ایک عہد کا خاتمہ
Next Post کراچی میں جبری طور پر گمشدہ شیعہ شہریوں کے لواحقین کا دھرنا
Protest

Related Posts

Bardella's New Book "Gouverner" Puts His Pull With Readers to the Test

بارڈیلا کی نئی کتاب “گورنر”: کیا یہ پہلی کتاب کی مقبولیت کو چھو سکے گی؟

November 6, 2026
French Business Lobbies to Put Presidential Hopefuls Through Their Paces at Paris's Grand Rex

فرانسیسی صدارتی انتخابات 2027: کاروباری اداروں کا امیدواروں کا معاشی ایجنڈا جانچنے کا فیصلہ

November 6, 2026
France Erupts: 575,000 March as Students and Workers Unite for Higher Wages

فرانس میں اجرتوں اور قوتِ خرید کے لیے بڑے پیمانے پر احتجاج، 575,000 افراد سڑکوں پر

November 6, 2026
Garonne at Historic Lows: A November Drought Unlike Any in 30 Years

دریائے گارون نومبر میں تاریخی طور پر خشک، پانی کے اخراج میں توسیع

November 6, 2026

Popular Posts

1 Vladimir Putin

امریکی میزائل تجربے کا جواب دیا جائے، پوٹن کی ہدایات

2 Imad Wasim

قومی کرکٹر عماد وسیم بھی رشتہ ازدواج میں منسلک

3 Meeting

انجینئر افتخار چودھری نے ریاٹرڈ جرنیل ڈاکٹر محمد مصطفی الجہنی سے ملاقات کی

4 Shah Mahmood Qureshi - António Guterres

شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان رابطہ طے پا گیا

5 Khamisani Socail Welfare Trust

محمد سلیم خمیسانی کا سیفی ویلفیئر سوسائٹی کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد

6 Indian Army in Kashmir

کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باوجود ہزاروں کشمیریوں کا بھارت کیخلاف مظاہرہ

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.