پاکستان نے افغان حکام سے صفر سرحد پار دہشت گردی کا مطالبہ دہرایا
اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ افغان طالبان نے انہیں ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سینکڑوں جنگجوؤں کی حراست میں لینے کی اطلاع دی ہے، تاہم انہوں نے اسے ’ناکافی‘ قرار دیتے ہوئے کابل پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے اپنی زمین کے استعمال کو یقینی طور پر روکیں۔
افغان وزیر خارجہ کی پاکستانی وفد کو دعوت
وزیر خارجہ امیر متقی نے پاکستان کو ایک وفد بھیجنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ ٹی ٹی پی کے سینکڑوں اراکین کی گرفتاریوں کی تصدیق کر سکیں۔ ڈار نے ماسکو، برلن اور برسلز کے اپنے حالیہ دوروں پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کا موقف ہے کہ افغان زمین سے کام کرنے والے ٹی ٹی پی عناصر کے خلاف فیصلہ کن اور مسلسل کارروائی کی ضرورت ہے۔
افغانستان میں صفائی کارروائی کا منصوبہ
ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں ایک صفائی کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار تھا جب دوست ملک قطر نے ترکی کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ قطر کو ہماری منصوبہ بند جنگی کارروائی کے بارے میں علم تھا اور انہوں نے ہمیں روکنے کی درخواست کی اور معاملہ حل کرنے کی ذمہ داری لی۔
سرحدی بندش اور سفارتی تعلقات
- ڈار نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد ’خوشی‘ میں نہیں بند کی، بلکہ سلامتی کے تقاضوں کی وجہ سے بند کی۔
- انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت میں ’آدھے امن کے حامی ہیں، جبکہ دوسرے آدھے اس کے برعکس سوچتے ہیں‘۔
- پاکستان نے 2021 کے بعد سے 4,000 شہادتیں دی ہیں۔
انسانی امداد پر غور
ڈار نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کے لیے صرف ضروری خوراک کی سپلائی کی اجازت پر غور کر رہا ہے، اور یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی درخواست پر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو وزیراعظم اور فوجی قیادت کے سامنے اٹھائیں گے اور افغان عوام کے لیے مثبت اقدام کی امید ہے۔




