فرانسیسی عدلیہ کے لیے ایک بڑی کامیابی میں، ڈی زیڈ مافیا کے مبینہ بانیوں میں سے ایک مہدی لاریبی کو الجزائر میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی فرانسیسی گرفتاری کے وارنٹ پر عملدرآمد کرتے ہوئے عمل میں آئی، جو دونوں ممالک کے درمیان منظم جرائم کے خلاف بڑھتے ہوئے تعاون کا واضح اشارہ ہے۔
عدالتی ذرائع نے بدھ کے روز اس خبر کی تصدیق کی کہ فرانکو-الجزائری شہری مہدی لاریبی کو 31 جولائی کو حراست میں لیا گیا۔ تاہم، حیران کن طور پر اسے جیل منتقل نہیں کیا گیا بلکہ اسے عدالتی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ لاریبی کا تعلق مارسیلز سے ہے، جو ڈی زیڈ مافیا کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس تنظیم نے فرانس کے کئی دوسرے شہروں میں بھی منشیات کی تجارت پر اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے۔
الجزائر میں پناہ اور آپریشن ‘آکٹوپس’ کے اثرات
فرانسیسی حکام کو طویل عرصے سے شبہ تھا کہ لاریبی کئی سال قبل الجزائر فرار ہو گیا تھا۔ چونکہ الجزائر اپنے شہریوں کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کرتا، اس لیے لاریبی وہاں سے اپنے جرائم کے نیٹ ورک کو باآسانی چلا رہا تھا۔
یہ گرفتاری فرانسیسی وزیر انصاف جیرالڈ ڈارمینن کے مئی میں الجزائر کے دورے کے چند ہفتوں بعد عمل میں آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اسی دورے کے نتیجے میں الجزائر نے فرانسیسی وارنٹ پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا۔ ڈارمینن نے خود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے لکھا: “منشیات اور منظم جرائم کے خلاف جنگ میں فرانسیسی انصاف کا ایک اہم ہدف الجزائر میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس پیش رفت اور پناکو اور مارسیلز کی عدالت کے ساتھ تعاون پر الجزائری حکام کا شکریہ۔”
یہ کارروائی فرانس میں ‘آکٹوپس’ نامی بڑے آپریشن کے چند ماہ بعد سامنے آئی ہے۔ اس آپریشن میں ڈی زیڈ مافیا کی تین اہم شخصیات کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں امین اولان اور گیبریل اوری شامل ہیں، جو پہلے سے جیل میں ہونے کے باوجود وہاں سے اپنی مجرمانہ سرگرمیاں چلانے کے الزام میں ہیں۔ ان تمام بڑے منشیات فروشوں کو اب انتہائی حفاظتی زمروں والی جیلوں میں رکھا گیا ہے جو خاص طور پر منشیات کے بڑے سمگلروں کے لیے مختص ہیں۔
مہدی لاریبی کی گرفتاری ڈی زیڈ مافیا کے نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو فرانس میں منشیات کی تجارت کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، اسے جیل بھیجنے کے بجائے عدالتی نگرانی میں رکھے جانے کے فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
