پونٹواز کی فوجداری عدالت نے منگل 15 ستمبر کو ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے 36 سالہ ہینڈ بال کوچ یوہان کو جنسی زیادتی کے جرم میں بارہ ماہ کی معطل سزا سنائی۔ استغاثہ کی جانب سے ملزم کے خلاف پندرہ ماہ کی سزا کی درخواست کی گئی تھی، تاہم عدالت نے کم سزا پر اکتفا کیا۔
متاثرہ کھلاڑی کی عدالت میں گواہی
اس مقدمے کی سماعت کے دوران متاثرہ خاتون ایما (فرضی نام) نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے نے اس کی زندگی کو شدید متاثر کیا۔ انہوں نے کہا، “اس کہانی نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا۔ درحقیقت، میں نے سب کچھ کھو دیا۔” ایما نے عدالت کو بتایا کہ جب وہ پچیس سال کی تھیں تو سیرجی (والڈواز) کے ہینڈ بال کلب میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا، جہاں ملزم اس وقت ان کا کوچ تھا۔
واقعے کی تفصیلات
عدالت کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق، یہ واقعہ اگست 2021 میں پیش آیا جب ایما اپنی ٹیم کے ساتھ سونجیون (واز) میں ایک تربیتی کیمپ میں شریک تھیں۔ اس رات کا آغاز باربی کیو سے ہوا جہاں ایما نے ضرورت سے زیادہ شراب پی اور اس کی طبیعت خراب ہو گئی۔ ٹیم کی دو ساتھی کھلاڑیوں نے انہیں ان کے کمرے تک پہنچایا۔
اسی دوران کوچ یوہان بھی اوپر آیا اور ان ساتھیوں سے کہا کہ وہ نیچے جا کر تقریب میں شامل ہو سکتی ہیں کیونکہ وہ خود ایما کا خیال رکھیں گے۔ استغاثہ کے مطابق، اسی موقع پر ملزم نے نشے کی حالت میں ایما کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔
عدالتی کارروائی اور سزا
پبلک پراسیکیوٹر میتھلڈ سیگوریٹ نے ملزم کے خلاف پندرہ ماہ کی سزا کی درخواست کی تھی، لیکن عدالت نے تمام شواہد اور گواہیوں کا جائزہ لینے کے بعد بارہ ماہ کی معطل سزا سنانے کا فیصلہ کیا۔
- ملزم کی عمر: 36 سال
- متاثرہ کی عمر واقعے کے وقت: 25 سال
- واقعے کی تاریخ: اگست 2021
- سزا: 12 ماہ معطل
- استغاثہ کی درخواست: 15 ماہ
یہ مقدمہ کھیلوں کے شعبے میں جنسی زیادتی کے واقعات کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ متاثرین کو انصاف کی فراہمی اور تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے۔
