یوکرین میں جاری جنگ کی صورتحال نے ایک بار پھر یورپی ممالک کو ممکنہ فوجی تعیناتی پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ فرانس اور برطانیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں جبکہ جرمنی کا ماننا ہے کہ ابھی اس پر بات کرنا قبل از وقت ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایک سال قبل اس امکان کو رد نہیں کیا تھا کہ یوکرین کی زمینی حدود میں افواج بھیجی جا سکتی ہیں۔ اس وقت یہ معاملہ دوبارہ زیر بحث آیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے حالیہ اجلاس کے بعد کہا کہ برطانیہ یوکرین میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی افواج بھیجنے پر غور کر سکتا ہے۔
دوسری جانب، جرمنی کے چانسلر اولاف شولز نے اس بحث کو غیر مناسب اور قبل از وقت قرار دیا ہے، خاص طور پر جب ابھی امن مذاکرات کے نتائج بھی سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بغیر یوکرینی حکومت کی شمولیت کے کوئی بھی فیصلہ نامناسب ہوگا۔
فرانس کی وزارت خارجہ نے بھی اس مسئلے پر محتاط رویہ اپنایا ہے۔ وزیر خارجہ ژاں نوئل باروٹ نے کہا کہ روسی خطرے کو ختم کرنے کے لیے لازمی ہے کہ ہم یوکرین کو مضبوط ضمانتیں فراہم کریں۔
دیگر یورپی ممالک بھی مختلف موقف رکھتے ہیں۔ بیلجیئم کے وزیر دفاع تھیو فرانکن نے کہا کہ اگر مناسب ضمانتیں ملیں تو فوجی تعیناتی ممکن ہے، جبکہ نیدرلینڈز کے وزیر اعظم ڈک شوف نے واضح کیا کہ کوئی بھی اقدام واضح مینڈیٹ کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔
سویڈن نے بھی کہا ہے کہ وہ امن کی ضمانت کے لیے اپنی افواج یوکرین بھیجنے کا امکان رد نہیں کرتے، لیکن اس کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک منصفانہ اور پائیدار امن کا قیام ضروری ہے۔
دوسری جانب، پولینڈ اور ہنگری نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی افواج یوکرین نہیں بھیجیں گے۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ ان کا ملک یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ مل کر سیکیورٹی تعاون جاری رکھے گا۔
یہ صورتحال ایک پیچیدہ اور نازک مسئلہ ہے جس کے لیے یورپی ممالک کو نہایت محتاط اور دانشمندانہ فیصلے کرنے ہوں گے تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم ہو سکے۔
