سعودی عرب میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے درمیان ہونے والی ملاقات نے واشنگٹن اور ماسکو کے تعلقات میں ایک نمایاں موڑ پیدا کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اس ملاقات کو “اہم پیش رفت” قرار دیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان، ٹیمی بروس نے ایک بیان میں کہا کہ “ایک فون کال اور ایک ملاقات سے پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا، ہمیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے، اور آج ہم نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔” ملاقات میں دونوں ممالک نے اپنے تنازعات کو حل کرنے کے لیے مشاورت کا ایک طریقہ کار قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے اور یوکرین کی جنگ کے حل کے لیے مذاکرات کاروں کی تقرری پر بھی غور کیا ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ روس اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ عمل میں شامل ہونا چاہتا ہے اور یورپی ممالک کو بھی مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ روس کے ساتھ شراکت داری کے لیے “غیر معمولی مواقع” موجود ہیں اور اس کے لیے اس تنازعے کا خاتمہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ روسی ہم منصب نے بھی اسی طرح کی امید ظاہر کی کہ واشنگٹن روس کی پوزیشن کو بہتر طور پر سمجھنے لگا ہے۔
روس کی طرف سے کہا گیا کہ “ہم نے ایک دوسرے کو سنا اور سمجھا ہے۔” سرگئی لاوروف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکی روسی موقف کو بہتر طریقے سے سمجھ رہے ہیں اور ان کا مکالمہ “کارآمد” رہا۔
تاہم، یوکرین اور یورپی ممالک کو اس ملاقات میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کسی ایسے معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گا جو اس کی شمولیت کے بغیر طے پائے۔ زیلنسکی نے اپنے دورہ سعودی عرب کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا اور انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے یورپی یونین، برطانیہ اور ترکی کی شمولیت کے ساتھ “منصفانہ” مذاکرات کا مطالبہ کیا۔
یورپی رہنماؤں نے پیرس میں ہنگامی اجلاس بلایا اور امریکیوں کے ساتھ مل کر یوکرین میں “منصفانہ اور پائیدار” امن کی کوششوں کی حمایت کی۔ یورپی کمیشن کی صدر، ارسولا وان ڈر لیین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سے ملاقات کے بعد کہا کہ یورپی یونین امن کی کوششوں میں امریکہ کے ساتھ شراکت کرنا چاہتی ہے۔
یہ ملاقات ایک اہم موڑ کی عکاسی کرتی ہے جسے یورپی ممالک محتاط نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔
