اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی ضمانت اور سزا سے متعلق درخواست اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست پر 15 اکتوبر کو سماعت مقرر کر دی ہے۔
بشریٰ بی بی کی درخواست پر دو رکنی بینچ سماعت کرے گا
عدالت نے بشریٰ بی بی کی درخواست پر 15 اکتوبر کو دو رکنی بینچ کے سامنے سماعت کرے گی جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی کریں گے۔ بشریٰ بی بی کی قانونی ٹیم نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ یہ درخواست ان کے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد دائر کی گئی تھی۔
کے پی چیف منسٹر کی تقرری کے خلاف درخواست بھی مقرر
اسی طرح عدالت نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست پر بھی سماعت مقرر کر دی ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ 15 اکتوبر کو اس کیس کی سماعت کرے گا۔
ایڈووکیٹ شیر افضل مروت کی درخواست
ایڈووکیٹ شیر افضل مروت نے آفریدی کی بطور وزیر اعلیٰ تقرری کو چیلنج کیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سزا یافتہ شخص کو عوامی عہدے کے لیے کسی فرد کی نامزدگی کا اختیار نہیں ہے۔
- 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی ضمانت اور سزا معطلی کی درخواست پر 15 اکتوبر کو سماعت
- دو رکنی بینچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی شامل
- کے پی چیف منسٹر سہیل آفریدی کی تقرری کے خلاف درخواست بھی 15 اکتوبر کو مقرر
- درخواست گزار کا مؤقف: سزا یافتہ شخص عوامی عہدے کے لیے نامزدگی کا اختیار نہیں رکھتا
