پشاور — خیبر پختونخوا حکومت نے مارخور ٹرافی ہنٹنگ کے چار برآمدی اجازت ناموں کی نیلامی سے 33 کروڑ 56 لاکھ روپے سے زائد کی ریکارڈ آمدنی حاصل کی ہے، جو صوبائی پروگرام کی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی سنگ میل ہے۔
چترال اور کوہستان کی ولیج کنزرویشن کمیٹیوں کو مختص کیے گئے ان اجازت ناموں سے مجموعی طور پر 12 لاکھ 11 ہزار 800 ڈالر حاصل ہوئے۔ نیلامی کی نگرانی خیبر پختونخوا کے چیف کنزرویٹر آف وائلڈ لائف ڈاکٹر محسن فاروقی نے کی۔
توشی ٹو نے قائم کیا نیا ریکارڈ
چترال کے علاقے توشی ٹو کے اجازت نامے نے سب سے زیادہ 3 لاکھ 35 ہزار 600 ڈالر کی بولی حاصل کی، جو تقریباً 9 کروڑ 29 لاکھ 65 ہزار روپے بنتی ہے۔ یہ رقم گزشتہ برس کی سب سے بلند بولی 2 لاکھ 72 ہزار ڈالر سے تجاوز کر گئی، جس کی مالیت تقریباً 7 کروڑ 53 لاکھ 47 ہزار روپے تھی۔
توشی ون کے اجازت نامے کی بولی 3 لاکھ 20 ہزار 600 ڈالر، یعنی تقریباً 8 کروڑ 88 لاکھ روپے لگی، جبکہ گاہیرت گول 2 لاکھ 60 ہزار ڈالر میں فروخت ہوا، جس سے تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ روپے حاصل ہوئے۔
کائی گاہ کھوار کے اجازت نامے نے 2 لاکھ 95 ہزار 600 ڈالر کی بولی حاصل کی، جو تقریباً 8 کروڑ 18 لاکھ روپے کے برابر ہے۔
آمدنی کی تقسیم کا فارمولا
آمدنی کی تقسیم کے تحت 80 فیصد رقم مقامی کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور وائلڈ لائف کے تحفظ پر خرچ کی جائے گی، جبکہ باقی 20 فیصد صوبائی حکومت کے خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔
- توشی ٹو (چترال): 3 لاکھ 35 ہزار 600 ڈالر — تقریباً 9 کروڑ 29 لاکھ 65 ہزار روپے
- توشی ون (چترال): 3 لاکھ 20 ہزار 600 ڈالر — تقریباً 8 کروڑ 88 لاکھ روپے
- کائی گاہ کھوار (کوہستان): 2 لاکھ 95 ہزار 600 ڈالر — تقریباً 8 کروڑ 18 لاکھ روپے
- گاہیرت گول (کوہستان): 2 لاکھ 60 ہزار ڈالر — تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ روپے
واضح رہے کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت مارخور کے شکار کی محدود اجازت نامے کمیونٹی کی رضامندی سے جاری کیے جاتے ہیں، اور اس سے حاصل ہونے والی رقم مقامی آبادیوں کی ترقی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
