اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی سے قبل امیدواروں کے کردار اور کریمنل ریکارڈ کی جانچ کے لیے چھ اصول مقرر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محض فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کا اندراج کسی امیدوار کو سرکاری ملازمت سے مستقل طور پر نااہل قرار دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان نے ڈرائیور کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق ایک کیس میں تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے بریت کے باوجود امیدوار کو نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن اور لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ عدالتی بریت کو تسلیم کرنا لازمی ہے اور امیدواروں کے پس منظر اور اہلیت کا جائزہ معروضی انداز میں لیا جائے۔ کسی بھی منفی کردار تصدیقی رپورٹ کی بنیاد قیاس آرائی کے بجائے مستند اور قابل تصدیق شواہد پر ہونی چاہیے۔
سرکاری بھرتی کے لیے چھ اصول
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں درج ذیل اصول مقرر کیے ہیں:
- ایف آئی آر کا اندراج: امیدوار کے خلاف محض ایف آئی آر درج ہونا سرکاری ملازمت سے نااہلی کی خودکار بنیاد نہیں بن سکتا، کیونکہ ایف آئی آر جرم کا ثبوت یا جرم کا مفروضہ قائم نہیں کرتی۔
- بریت کو تسلیم کرنا: حکام کو عدالتی بریت کو تسلیم کرنا ہوگا اور بریت کے بعد محض شبہ کی بنیاد پر منفی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
- پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ: بریت پر منتج ہونے والے سابقہ کریمنل مقدمات کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں منفی انداز میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔
- زیر سماعت مقدمات: زیر سماعت مقدمات کا ذکر صرف ان کی زیر التوا حیثیت تک محدود رکھا جائے۔
- سماعت کا حق: امیدواروں کو سماعت کا موقع دیے بغیر اور معقول وجوہات کے بغیر عام طور پر بھرتی سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔
- میرٹ اور آئینی اصول: بھرتی کے فیصلے قانونی معیار، میرٹ، انصاف اور مساوات و انصاف کے آئینی اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔
امیدوار کی امیدواری بحال
عدالت نے درخواست گزار عبداللطیف کی امیدواری بحال کرنے کا حکم دیا، جنہوں نے ڈرائیور کانسٹیبل کے عہدے کے لیے میرٹ لسٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔
فیصلے کے مطابق متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ ان کا میڈیکل معائنہ اور دیگر قانونی کارروائی 30 دن کے اندر مکمل کریں اور تقرری کا حکم نامہ جاری کریں۔
درخواست گزار کو 2018 میں ایک کریمنل کیس میں بریت حاصل ہوئی تھی اور ان کے پاس صاف پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا۔ تاہم پولیس محکمہ نے بریت کے باوجود ان کی بھرتی سے انکار کر دیا تھا۔
پولیس محکمے کا فیصلہ غیر قانونی قرار
وفاقی آئینی عدالت نے رائے دی کہ ڈیرہ غازی خان پولیس محکمے کے کریکٹر سرٹیفکیٹ کو ٹھوس وجوہات کے بغیر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ محکمے کا اقدام قانونی بددیانتی اور اختیارات کے غیر قانونی استعمال کے مترادف ہے۔
تحریری فیصلے میں سورۃ الحجرات، سورۃ النساء اور سورۃ المائدہ کی آیات کا حوالہ بھی دیا گیا اور کہا گیا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی بھی منفی کارروائی کی بنیاد محض شبہ کے بجائے تصدیق شدہ حقائق پر ہونی چاہیے۔
