پیرس: فرانس میں 2027 کے صدارتی انتخابات سے قبل غیر ملکی طاقتوں کی جانب سے آن لائن اثر و رسوخ کی ایک وسیع اور خفیہ مہم سامنے آئی ہے، جس کا انکشاف فرانسیسی اخبار “لوموند” کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں فرانسیسی اور یورپی صارفین نے یوٹیوب، ٹک ٹاک اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر اسلامو فوبک اور سازشی نوعیت کے انگریزی مواد کو دیکھا ہے۔
مہم کا دائرہ کار اور بجٹ
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس مہم کے تحت تین سال کے دوران مجموعی طور پر 83 کروڑ ویوز ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 12 کروڑ ویوز صرف فرانس میں دیکھی گئیں۔ اس پوری کارروائی پر تقریباً ایک کروڑ یورو کا خرچ آيا۔
- تین سال میں کل 83 کروڑ ویوز
- فرانس میں 12 کروڑ ویوز
- مجموعی بجٹ تقریباً ایک کروڑ یورو
- یوٹیوب، ٹک ٹاک اور فیس بک اہم پلیٹ فارمز
کیسے پھیلایا گیا مواد؟
رپورٹ میں مثال کے طور پر ایسی ویڈیوز کا ذکر کیا گیا ہے جن میں بحیرہ روم یا رودبار انگلستان (چینل) عبور کرنے والے تارکین وطن کی فوٹیج کے ساتھ یہ نعرہ لگایا گیا: “قطر کو روکو، اس سے پہلے کہ وہ یورپ کو تباہ کر دے۔” اسی طرح پیرس میں 2024 کے دوران ہونے والے فسادات کی تصاویر بھی اس دعوے کے ساتھ پیش کی گئیں کہ یہ امارات کی وجہ سے بھڑکے تھے۔
ماہرین کے مطابق ان جھوٹی مہمات کا مقصد سیاسی ہے، تاکہ اہم انتخابات سے قبل عوامی رائے کو متاثر کیا جا سکے۔
اسرائیلی کمپنیوں تک ٹریس
اس بین الاقوامی مطالعے کے مطابق تکنیکی اور مالی سراغوں کی مدد سے ان مہمات کا تعلق اسرائیل میں قائم نجی سائبر انفلوئنس کمپنیوں سے جوڑا گیا ہے۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ میزبان ریاست کی ذمہ داری ابھی تک ثابت نہیں ہو سکی۔
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپی ممالک غیر ملکی مداخلت اور ڈیجیٹل ڈیзинفارمیشن کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تشویش کا شکار ہیں، اور انتخابی عمل کی سلامتی کو درپیش چیلنجز پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
