پیرس: فرانس میں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج کے تیسرے مرحلے کے دوران ملک بھر میں 779 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 159 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ وزارت داخلہ کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران رات گئے تک کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔
مظاہروں کی تفصیلات
وزارت داخلہ کے مطابق اس تیسرے احتجاجی دن کے دوران 291 عوامی مقامات پر احتجاجی کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں جن میں مجموعی طور پر 320,000 افراد نے شرکت کی، جن میں سے 70,000 صرف پیرس میں تھے۔ حکام نے ملک بھر میں 40,000 چیکنگز بھی کیں۔
قابل ذکر ہے کہ 24 اکتوبر کو 289 احتجاجی کارروائیوں میں 410,000 افراد نے حصہ لیا تھا جن میں 110,000 پیرس میں شامل تھے۔ اسی طرح 17 اکتوبر کو 441 کارروائیوں میں 550,000 افراد نے شرکت کی تھی۔
مولوٹوف کاک ٹیل حملہ اور قانونی کارروائی
پیرس میں سیکیورٹی اہلکاروں پر مولوٹوف کاک ٹیل پھینکنے کے واقعے پر پیرس کے پراسیکیوٹر نے “سرکاری اہلکاروں کے خلاف قتل کی کوشش” کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق اس حملے میں ایک موبائل جینڈرم معمولی زخمی ہوا۔
وزیر داخلہ لارنٹ نونیز نے اس حملے کو “قتل کی کوشش” قرار دیتے ہوئے مظاہروں میں شامل تخریب کار گروہوں کی “بے مثال تشدد” کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تفصیلات
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں میں 60 مظاہرین معمولی زخمی ہوئے جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ دوسری جانب وزارت داخلہ کے مطابق 159 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جن میں پولیس اور جینڈرم اہلکار شامل ہیں۔
پیرس پولیس پریفیکچر نے ہفتے کی شب بتایا کہ پانچ سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جن میں چار پولیس اہلکار اور ایک جینڈرم شامل ہے، جن میں سے تین مولوٹوف کاک ٹیل پھینکنے سے زخمی ہوئے۔
کاروباری نقصانات
فرانس کی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (CCI France) کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران 20 کاروباری مراکز کو نقصان پہنچا جو گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ اس سے قبل 17 اکتوبر کو 2,488 جبکہ 24 اکتوبر کو 50 کاروباری مراکز متاثر ہوئے تھے۔
CCI France نے تشویش کا اظہار کیا کہ مظاہروں کی وجہ سے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور تعطیلات کے موسم میں قریبی دکانوں کی آمدنی میں 60 سے 80 فیصد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔
تعلیمی اداروں میں بلاک کی کال
طلبا تنظیم “Les Lycéens!” کے سربراہ پیئر سورزا نے پیر سے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں بلاک کی کال دی ہے۔ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طلبا اپنے مطالبات کے لیے پرعزم ہیں۔ ادھر یونین اسٹوڈنٹ آرگنائزیشنز نے منگل اور جمعرات کو بھی احتجاج کی کال دی ہے۔
مارسیے میں واقعات
مارسیے میں ہفتے کی شب ایک فٹ لاکر اسٹور میں چوری کی کوشش کے بعد پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مشتبہ افراد نے اسٹور کے اسٹاک روم میں گھسنے کی کوشش کی۔ اس سے قبل 17 اکتوبر کو بھی یہی اسٹور لوٹ لیا گیا تھا۔ مارسیے میں دیگر کئی کاروباری مراکز کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
سیاسی ردعمل
مولوٹوف کاک ٹیل حملے کے بعد سیاسی رہنماؤں نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ نیشنل ریلی کے رہنما مارین لی پین نے کہا کہ اس حملے کے ذمہ داروں کو تلاش کر کے سخت سزا دی جانی چاہیے۔ دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے سربراہ برونو ریٹائیو نے کہا کہ یہ قتل کی کوشش ہے اور اس کا جواب دینا ہوگا۔
جرمنی میں بھی احتجاج
اسی دوران جرمنی میں بھی نوجوانوں کی جانب سے مہنگائی اور تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ “GenZ regelt” نامی گروپ کی کال پر تقریباً تیس شہروں میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکلے۔ برلن میں برانڈنبرگ گیٹ کے سامنے ہونے والا احتجاج پرامن رہا۔
