پیرس: فرانس میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری سماجی تحریک کے تحت ہفتہ 24 اکتوبر کو احتجاجی مظاہروں کا دوسرا مرحلہ منعقد ہوا، جس میں طلباء، کارکنوں، ٹریڈ یونینوں اور یلو ویسٹ تحریک کے حامیوں نے پیرس سمیت متعدد شہروں میں شرکت کی۔
سیکیورٹی انتظامات میں بے مثال اضافہ
17 اکتوبر کے پرتشدد مظاہروں کے بعد، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپیں، لوٹ مار اور املاک کو نقصان پہنچا، وزیر داخلہ لارنٹ نیوز نے سخت رویے کا عندیہ دیا تھا۔ اس تناظر میں پورے ملک میں 70 ہزار پولیس اہلکاروں اور ژاندارموں کی تعیناتی کی گئی، جنہیں بکتر بند گاڑیوں، واٹر کینن، ہیلی کاپٹروں اور خصوصی یونٹس (RAID، GIGN، BRI) کی معاونت حاصل تھی۔
مظاہرین کی تعداد پر اختلاف
سی جی ٹی یونین کے مطابق ملک بھر میں 800,000 مظاہرین سڑکوں پر آئے، جو گزشتہ ہفتے کے اعداد و شمار کے برابر ہیں۔ دوسری جانب وزارت داخلہ نے مظاہرین کی تعداد 410,000 بتائی ہے۔
مظاہروں پر پابندیوں پر تحفظات
بورڈو، لیون اور نانٹیس سمیت کئی شہروں میں مظاہروں پر پابندی کے باوجود احتجاج جاری رہا۔ صدر ایمانوئل میکرون نے جمعرات 22 اکتوبر کو قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد اعلان کیا تھا کہ “بے بنیاد” درخواستوں پر مظاہروں کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم ٹریڈ یونینوں کی درخواستوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔
اختیارات کے غلط استعمال کا خدشہ
مظاہرین نے پولیس کی بھاری تعیناتی، متعدد چوکیوں اور مظاہرے کی جگہ میں آخری لمحے تبدیلی کو “عوامی احتجاج کو نظر انداز کرنے” کی کوشش قرار دیا۔ کئی شرکاء نے مظاہروں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کو “آمرانہ رجحان” قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔
- فرانس بھر میں 70,000 پولیس اہلکار تعینات
- سی جی ٹی کے مطابق 800,000 مظاہرین، وزارت داخلہ کے اعداد و شمار 410,000
- بورڈو، لیون اور نانٹیس میں مظاہروں پر پابندی
- مظاہرین نے سیکیورٹی اقدامات کو “آمرانہ” قرار دیا
