طبی برادری کے خاموشی پر تنقید
فرانس میں ایک ایسے سرجن کے مقدمے نے طبی برادری کے اندر گہرے ادارتی مسائل کو بے نقاب کر دیا ہے جس پر 298 سے زائد نابالغ مریضوں کے جنسی استحصال کا مجرم پایا گیا۔ جوئل لی سکوارنیک نامی اس سابق سرجن کے خلاف مقدمے کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ کس طرح دیگر ڈاکٹروں نے اس کے غیر اخلاقی رویے پر خاموشی اختیار کی۔
طبی اداروں کی بے حسی
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ لی سکوارنیک کے بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر دیکھنے کے باوجود بھی اس کے ساتھی ڈاکٹروں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ایک ڈاکٹر کو تو عدالت میں گواہی دینے کے لیے پولیس بھیجنے کی دھمکی دینی پڑی، جبکہ ایک اور ڈاکٹر کی گواہی پر جھوٹے بیانات دینے کی کارروائی کا خطرہ منڈلانے لگا۔
اخلاقی شکایت درج
اب ‘لاینفانٹ بلو’ نامی تنظیم نے تین سینئر ڈاکٹروں کے خلاف اخلاقی شکایت درج کرائی ہے جو اس وقت طبی کونسل کے عہدیدار تھے۔ تنظیم کے وکیل ژاں کرسٹوف بوائے کا کہنا ہے کہ “ہم اس ادارے کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ انہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ان کے نمائندوں نے اپنے فرائض میں کوتاہی کی۔”
تبدیلی کی سست رفتار
اگرچہ اس سکینڈل کے بعد فرانسیسی پارلیمنٹ میں سماعتیں ہوئیں، لیکن طبی اداروں میں اصلاحات کی رفتار نہایت سست ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی برادری میں طاقت کا احساس اب بھی برقرار ہے، جس نے ادارتی ناکامیوں کو روکنے میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔
- سابق سرجن جوئل لی سکوارنیک 2025 میں 298 جنسی جرائم کا مجرم ٹھہرا
- طبی کونسل کے تین سابق عہدیداروں کے خلاف اخلاقی شکایت درج
- عدالتی کارروائی میں ڈاکٹروں کی عدم تعاون پر تنقید
- فرانسیسی طبی نظام میں اصلاحات کی سست رفتار
