منیسوٹا میں کشیدگی
امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منیاپولس میں گذشتہ ہفتہ ایک خاتون کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے کشیدگی چھائی ہوئی ہے۔ بدھ کو ایک وینزویلا کے شہری کو آئی سی ای اہلکار کی فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد سیکڑوں افراد نے احتجاج کیا، جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
جج کا تاریخی فیصلہ
جمعہ کو وفاقی جج کیٹ مینینڈیز نے آئی سی ای کے خلاف ایک اہم حکم جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ اہلکار پرامن مظاہرین کو حراست میں نہیں لے سکتے، ان پر کالی مرچ اسپرے نہیں کر سکتے، اور ان گاڑیوں کو نہیں روک سکتے جو مناسب فاصلے سے ان کی پیروی کر رہی ہوں۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے پاس اس حکم پر عمل درآمد کے لیے 72 گھنٹے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا ردعمل
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو بغاوت ایکٹ (انسسرکشن ایکٹ) استعمال کرنے کی دھمکی دی، جو انہیں فوج کو پولیس فورس کے طور پر تعینات کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر مجھے ضرورت پڑی تو میں اسے استعمال کروں گا، لیکن فی الحال ایسا کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔” انہوں نے منیسوٹا کے ڈیموکریٹک سیاستدانوں پر الزام لگایا کہ وہ آئی سی ای اہلکاروں کے خلاف تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔
ڈیموکریٹک رہنماؤں پر تحقیقات
امریکی میڈیا کے مطابق، انسدادِ انصاف محکمہ ریاستی گورنر ٹم والز اور میئر جیکب فری سمیت کئی ڈیموکریٹک عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے، جن پر آئی سی ای کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام ہے۔ گورنر والز نے اسے “آمرانہ حکمت عملی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔
مقامی حکام کا موقف
مقامی ڈیموکریٹک حکام نے وفاقی حکومت پر شہر میں افراتفری پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ گورنر والز نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ “درجہ حرارت کم کریں” اور “انتقامی مہم” بند کریں۔ میئر فری نے آئی سی ای کو فوری طور پر شہر چھوڑنے کا مطالبہ دہرایا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی کارروائی
ای سی ایل یو کی مقامی شاخ نے وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ آئی سی ای کے اہلکاروں نے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے اور صومالی اور لاطینی برادریوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے۔ رینی نکول گڈ کے خاندان کے وکلاء نے وفاقی حکومت کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے سول تفتیش کا آغاز کیا ہے۔
آئی سی ای کی حراست میں اموات
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے گذشتہ ہفتے ایک 34 سالہ میکسیکن شہری ہیبر سانچیز ڈومنگوز کی آئی سی ای کی حراست میں موت کی تصدیق کی ہے۔ اس سال آئی سی ای کی حراست میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
