پیرس: فرانس میں جنگلات کی تباہ کن آگ کے درمیان، ایک چونکا دینے والے انکشاف نے شہریوں کی سنگین غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک نئے قومی سروے کے مطابق، 17 فیصد تمباکو نوشی کرنے والے شاہراہ پر گاڑی چلاتے ہوئے کھڑکی سے جلتے ہوئے سگریٹ کے ٹکڑے پھینکنے کا اعتراف کرتے ہیں۔
یہ تشویشناک اعداد و شمار ‘فاؤنڈیشن ونس آٹوروٹس’ کے لیے ایپسوس بی وی اے کے کرائے گئے سروے میں سامنے آئے ہیں۔ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ 32 فیصد افراد دورانِ سفر جیبی ایش ٹرے استعمال کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔ یہ رویہ اس وقت منظرِ عام پر آیا ہے جب ملک شدید جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں ہے اور وزیرِ داخلہ لارنٹ نونیز نے خطرے کو “انتہائی سنگین” قرار دیا ہے۔
ایک چھوٹی سی لاپرواہی، تباہی کا بڑا سامان
رپورٹ کے مطابق، اس سیزن میں اب تک 14,000 سے زائد آگ کے واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جن کے نتیجے میں 117,000 ہیکٹر رقبہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے۔ فاؤنڈیشن کی 12ویں سالانہ موسمِ گرما کی اسٹڈی ان رویوں کو “خطرناک” قرار دیتی ہے اور خبردار کرتی ہے کہ سگریٹ کا ایک ٹکڑا بھی تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بیداری میں اضافے کے باوجود عمل میں بہتری نہیں آئی۔ سروے میں شامل 87 فیصد فرانسیسی اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ گاڑی سے سگریٹ پھینکنا “آگ لگنے کا بڑا خطرہ” ہے۔ اسی طرح 60 فیصد کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں وہ خود جنگلاتی آگ کے نتائج بھگتیں گے، اور ایک تہائی کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی کسی نہ کسی طرح اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔
بڑھتی ہوئی ماحولیاتی بے حسی
ماحولیاتی شعور کے دعوؤں کے برعکس، عوامی مقامات پر غیر مہذب حرکات میں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 24 فیصد افراد شاہراہوں پر گاڑی سے کچرا پھینک دیتے ہیں، جو 2025 کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ حیران کن طور پر 18 فیصد کا خیال ہے کہ شاہراہ پر گاڑی سے چھوٹا سا کچرا پھینکنا “کوئی بڑی بات نہیں”۔
صرف شاہراہیں ہی نہیں، عام سڑکوں پر بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ ہر تین میں سے ایک سے زائد فرانسیسی زمین پر کچرا پھینکنے کا اعتراف کرتے ہی۔ نوجوان نسل میں یہ رجحان اور بھی خطرناک ہے، جہاں 35 سال سے کم عمر کے 46 فیصد افراد یہ حرکت کرتے ہیں۔
سخت قوانین اور سنگین سزائیں
فرانس میں گاڑی میں سگریٹ نوشی اس وقت تک ممنوع نہیں جب تک گاڑی میں نابالغ بچہ موجود نہ ہو یا ڈرائیور کی گرفت محفوظ ڈرائیونگ میں رکاوٹ نہ بنے۔ تاہم، 2023 سے آگ کے خطرے والے موسم میں جنگلات میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی ہے۔
اگر کوئی جلتا ہوا سگریٹ غیر ارادی آگ کا سبب بنتا ہے تو سخت تعزیری کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر اس لاپرواہی کے نتیجے میں کسی کی موت واقع ہو جائے تو قصوروار کو 10 سال تک قید اور 150,000 یورو تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ وزارت داخلہ اور ماحولیاتی تبدیلی کے مطابق، 90 فیصد جنگلاتی آگ انسانوں کی وجہ سے لگتی ہیں، اور ان میں سے نصف سے زیادہ محض غفلت یا خطرناک رویوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
