فرانس کے صدارتی انتخابات کی مہم میں ایک نیا اور خطرناک موڑ اس وقت سامنے آیا جب اہم امیدوار گبریل اتال نے غیر ملکی مداخلت کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ان کے وکلاء نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ اتال نے “روسی نیٹ ورکس سے منسلک ڈیجیٹل مداخلت” کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔
جعلی خبروں کی لہر کا انکشاف
اتال کے قانونی مشیروں، ساشا غوزلان اور لوکاس ویل کے مطابق، بدھ کو پہلی مرتبہ “بیرونی ڈیجیٹل مداخلت” کی اطلاع دی گئی تھی، جس کا سراغ روس سے ملا۔ اس کے بعد جمعرات کو سرکاری ذرائع نے ایک اور “مداخلت کی کارروائی” سے آگاہ کیا، جو دوبارہ روسی نیٹ ورکس سے جڑی تھی۔
وکلاء نے اپنے بیان میں کہا کہ “ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر متعدد اکاؤنٹس، جن میں سے کچھ نے فرانسیسی اور بین الاقوامی میڈیا کی شناخت چرائی، نے جعلی ویڈیو رپورٹیں، اخبارات کے جھوٹے سرورق اور ایسا مواد پھیلایا جو میڈیا کے لوگو اور ڈیزائن کی نقل کرتا تھا۔” ان جعلی مواد میں اتال اور ان کے قریبی ساتھیوں کو غلط بیانات، جھوٹے اقدامات اور من گھڑت عوامی موقف سے منسوب کیا گیا تاکہ انہیں بطور امیدوار بدنام کیا جا سکے۔
انتخابی عمل کو نشانہ بنانے کی سازش
یہ واقعہ فرانسیسی صدارتی دوڑ میں روسی مداخلت کے بڑھتے ہوئے خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے۔ حکام پہلے ہی Storm-1516 اور Matriochka جیسے گروہوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جو پراکسی نیٹ ورکس اور جدید ڈیپ فیک تکنیکوں کے ذریعے جمہوری عمل کو خراب کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
- غیر ملکی مداخلت کی شکایت میں تیزی
- سرکاری انٹیلیجنس الرٹس کا کردار
- جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس کا بڑھتا ہوا استعمال
اتال کے وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ مربوط مہم امیدوار کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔ فرانسیسی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ “انتخابات کے قریب کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی کوشش کو برداشت نہیں کرے گی۔”
یہ معاملہ اس لیے بھی سنگین ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی رافیل گلوکسمن اور صحافی لیا سلامے کو اسی طرح کی جعلی مہم کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جس میں روس کے پراکسی گروہوں کے طریقہ کار سے مماثلت پائی گئی تھی۔
