لاکانو، فرانس: فرانس کے جنوب مغربی علاقے گیرونڈ میں جنگل کی تباہ کن آگ نے منگل کے روز مشہور سیاحتی مقام لاکانو سے تقریباً 4000 چھٹیاں منانے والوں کو ان کے قیام گاہوں سے نکالنے پر مجبور کر دیا۔ تیز ہواؤں کے باعث شعلے اس سرفنگ کے لیے مشہور ساحلی قصبے کی جانب بڑھنے لگے، جس کے بعد انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر انخلاء کا حکم دیا۔
لاکانو کے میئر لارنٹ پیرونڈے نے صورتحال کو “ایک دھچکا” قرار دیتے ہوئے بتایا کہ انخلاء کا عمل انتہائی پرسکون طریقے سے مکمل کیا گیا کیونکہ لوگوں کے پاس تیاری کے لیے تھوڑا وقت موجود تھا۔ دوپہر 2 بجے تک پورے قصبے سے سیاحوں کا انخلاء یقینی بنا لیا گیا تھا۔
سیاحوں کے لیے اچانک اور مایوس کن فیصلہ
تاہم، بہت سے سیاحوں کے لیے یہ اعلان کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ ڈوبس سے آئی ایک خاتون سیاح نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پہلے تو انہیں لگا کہ ان کے شوہر مذاق کر رہے ہیں کیونکہ آسمان صاف تھا اور آگ کم ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔ وہ اپنی گاڑی میں آخری سامان رکھتے ہوئے بولیں، “ہم گھبرائے نہیں، عملہ پُرسکون کرنے والا تھا، لیکن آخرکار ہمیں سب کچھ سمیٹ کر جانا پڑا۔” انہوں نے مزید کہا کہ چھٹیوں کا آئندہ پروگرام غیر یقینی ہے اور شاید وہ دوستوں کے ہاں چلی جائیں۔
کئی سیاحوں نے شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ ایک شخص نے گاڑی چلاتے ہوئے کہا، “ہم پورے سال ان چھٹیوں کا انتظار کرتے ہیں اور صرف تین دن بعد گھر واپس جانا پڑ رہا ہے۔” ایک اور نے مختصراً کہا، “یہ چھٹیوں کا اختتام ہے۔”
بین الاقوامی سیاح بھی متاثر
جن سیاحوں کے پاس ذاتی گاڑی نہیں تھی، انہیں مقامی حکام کی جانب سے کرائے پر لی گئی بسوں کے ذریعے بورڈو سینٹ-ژاں ریلوے اسٹیشن پہنچایا گیا۔ ان بسوں نے علاقے کے تمام کیمپنگ سائٹس کا چکر لگا کر پیدل مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ فرانسیسی سیاحوں کے علاوہ، متعدد برطانوی اور جرمن چھٹیاں منانے والوں کو بھی وقت سے پہلے اپنے گھروں کو لوٹنا پڑا۔ بریمن سے آئے ایک جرمن سیاح نے انتہائی افسردہ لہجے میں کہا، “یہاں سے جانا انتہائی تکلیف دہ ہے، یہ جگہ میرے دوسرے گھر کی مانند ہے۔ ہمیں پانچ ہفتے رہنا تھا، یہ دل توڑ دینے والا ہے۔” ان کے دونوں بیٹے پہلے ہی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر جرمنی واپسی کے لیے تیار بیٹھے تھے۔
کیمپنگ سائٹس پر معاشی اثرات
ایروٹیل اوشین کیمپنگ سائٹ کے ڈائریکٹر کے لیے یہ صبح ایک “سرنگ” کی مانند تھی۔ پہلے سیاحوں کو اور پھر عملے کو تیزی سے نکالا گیا۔ انہوں نے کہا، “جس انخلاء سے ہم بچنا چاہتے تھے وہ آ پہنچا۔ موسم گرما کے عروج کے دنوں میں اس کا بڑا مالی نقصان ہوگا،” اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ دوبارہ کب کھول سکیں گے۔
22 جولائی کو شروع ہونے والی اس خوفناک آگ نے پہلے ہی سیاحوں کو دور کر دیا تھا۔ ڈائریکٹر کے مطابق، “کیمپنگ سائٹ پہلے ہی آدھی خالی تھی، پچھلے ہفتے کے آخر میں عام طور پر 150 سے 200 کے مقابلے میں صرف 40 نئے مہمان آئے۔” اس صورتحال کے پیش نظر، ایس این سی ایف (فرانسیسی ریلوے) نے 31 جولائی تک جنوب مغرب کی جانب آنے اور جانے والی ٹکٹوں پر بغیر کسی چارج کے منسوخی اور تبادلے کی پیشکش کی ہے۔
دوسری جانب، لاکانو کی بلدیہ نے ان سیاحوں کو جو نجی رہائش گاہوں جیسے کہ ایئر بی این بی میں ٹھہرے ہوئے ہیں، “اپنی چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے” کی دعوت دی ہے۔ تاہم، لائف گارڈز کی نگرانی کے باوجود ساحل سمندر مایوس کن حد تک خالی پڑے ہیں۔
