کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ بیت الخلاء میں کتنے منٹ گزارتے ہیں؟ دو منٹ؟ سات منٹ؟ یا بیس منٹ؟ اگر آپ کا جواب آخری والا ہے تو پھر یہ خبر آپ کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ماہرین امراض معدہ کے مطابق، بیت الخلاء میں زیادہ وقت گزارنا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور یہ کسی سنگین بیماری کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
## بیت الخلاء میں گزارنے کا مثالی وقت کیا ہے؟
ڈاکٹرز کے مطابق، رفع حاجت کے لیے بیت الخلاء میں صرف چند منٹ گزارنا کافی ہے۔ اوریگون یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنسز کی پروفیسر میلیسا ہرشمین کے مطابق، “بیت الخلاء میں تین منٹ سے زیادہ وقت نہیں گزارنا چاہیے۔” وہیں معدے کی ماہر نرس لیسلی وائیڈ کچھ زیادہ فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ سے دس منٹ کی مدت کو قابل قبول قرار دیتی ہیں۔ ہیوسٹن میتھوڈسٹ ہسپتال کی معدے کی ماہر ویلنٹائن ملیئن کے مطابق پانچ منٹ کا وقت مثالی ہے۔
ڈاکٹر وائیڈ کہتی ہیں کہ “بیت الخلاء میں بیٹھیں، بغیر کسی مشقت کے رفع حاجت کریں، مکمل طور پر فارغ ہونے کا احساس کریں، صفائی کریں اور وہاں سے چلے جائیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ “نہ زور لگانا چاہیے اور نہ ہی بیٹھ کر انتظار کرنا چاہیے کہ شاید آنتوں کی حرکت ہو جائے۔”
## زیادہ زور لگانے کے نقصانات
ڈاکٹر ہرشمین کے مطابق، ضرورت سے زیادہ زور لگانے سے “پیلوک ایریا پر صدمہ اور چوٹیں آ سکتی ہیں،” جن میں بواسیر شامل ہے۔ ڈاکٹر وائیڈ نے مزید خبردار کیا کہ “زیادہ زور لگانے سے مقعد میں دراڑیں بھی پڑ سکتی ہیں، جو کہ مقعد کی نالی کی جھلی کے پھٹنے سے ہوتی ہیں اور بہت تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔”
## پانچ منٹ میں رفع حاجت نہ ہو تو کیا کریں؟
ڈاکٹر ملیئن کا مشورہ ہے کہ “اگر پانچ منٹ میں رفع حاجت نہ ہو سکے تو بیت الخلاء سے باہر نکل جائیں، جب دوبارہ حاجت محسوس ہو تو واپس آئیں۔” امید ہے کہ واپسی پر آپ صرف چند منٹوں میں اپنا کام مکمل کر لیں گے۔
## دس منٹ سے زیادہ وقت گزارنے والوں کے لیے تجاویز
اگر آپ بیت الخلاء میں زیادہ وقت گزارنے کے عادی ہیں تو کچھ آسان طریقے اپنا کر اس عادت کو بدل سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، بیٹھنے کی پوزیشن اہم ہے۔ پاؤں کے نیچے چھوٹا سا اسٹول رکھ کر گھٹنوں کو اونچا کریں، اس طرح بیٹھنے کا انداز بیٹھنے کی حالت کے قریب ہو جاتا ہے جس سے ملاشی پر دباؤ کم پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ، اسمارٹ فون کو بیت الخلاء میں لے جانے سے گریز کریں۔ ڈاکٹر ملیئن نے بتایا کہ تحقیقی مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ فون اپنے ساتھ لے جاتے ہیں وہ زیادہ وقت گزارتے ہیں اور ان میں بواسیر کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ہرشمین کہتی ہیں کہ “ورزش آنتوں کی حرکت کو بہتر بنانے کا بہترین طریقہ ہے۔ میں اکثر اپنے مریضوں سے کہتی ہوں کہ اگر آپ حرکتہیں کریں گے تو آپ کی آنتیں بھی حرکت نہیں کریں گی۔” غذا کا بھی خاص خیال رکھیں۔ ڈاکٹر ہرشمین کے مطابق روزانہ کم از کم 25 گرام فائبر کا استعمال ضروری ہے۔ ایک سیب میں تقریباً 4.5 گرام، ایک کپ کوئنو میں 5 گرام اور ایک کپ دال میں 15.5 گرام فائبر پایا جاتا ہے۔
## نظر انداز نہ کرنے والی علامات
نوجوان بالغوں میں کولوریکٹل کینسر کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اس کینسر کی علامات آنتوں کی خرابی سے منسلک مسائل سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹر ملیئن کہتی ہیں کہ “پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ بیت الخلاء میں خون صرف بواسیر کی وجہ سے آتا ہے، لیکن اگر آپ کو یہ مسئلہ درپیش ہے تو اپنے ڈاکٹر سے ضرور بات کریں۔”
اگر آپ کو آنتوں کی عادات میں تبدیلی نظر آئے، جیسے پہلے باقاعدگی سے رفع حاجت ہوتی تھی اور اب اکثر قبض یا دست کی شکایت رہتی ہے، تو اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔ ڈاکٹر ملیئن کے مطابق “یہ آنتوں میں سوزش یا رکاوٹ کی علامت ہو سکتی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “آج کل بڑی آنت کے کینسر کے بہت سے نوجوان مریض غیر علامتی ہوتے ہیں، سوائے وقفے وقفے سے مقعد سے خون آنے کے۔” لہٰذا کسی بھی تشویش ناک تبدیلی کو نظر انداز نہ کریں اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
