بچوں سمیت متعدد اموات، سینکڑوں مکانات تباہ
پشاور: صوبائی آفات بندی اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق 25 مارچ سے خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں موسلا دھار بارشوں کے باعث چھتوں اور دیواروں کے گرنے سے کم از کم 45 افراد ہلاک اور 105 زخمی ہو گئے ہیں۔
اتوار کو جاری کردہ تازہ رپورٹ میں پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ ہلاک شدگان میں 23 بچے، 17 مرد اور 5 خواتین شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 45 مرد، 16 خواتین اور 44 بچے شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 442 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے 382 جزوی طور پر جبکہ 60 مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
متاثرہ اضلاع کی فہرست
یہ واقعات بنوں، ایبٹ آباد، مردان، باجوڑ، ہنگو، مہمند، کوہاٹ، شمالی وزیرستان، پشاور، خیبر، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، کرم، لکی مروت، شانگلہ، بٹگرام، لوئر کوہستان، مانسہرہ، تورغر، سوات، بالائی دیر، چارسدہ، بونیر، ملاکنڈ، زیریں دیر، اورکزئی، جنوبی وزیرستان اور ٹانک سمیت کئی اضلاع میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
ریلیف آپریشنز اور مزید بارشوں کا انتباہ
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ وہ ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں امدادی سامان بھیج دیا گیا ہے اور مقامی انتظامیہ کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ریلیف کوششوں میں تیزی لائیں اور متاثرین کو فوری امداد فراہم کریں۔
اتھارٹی نے 6 سے 9 اپریل تک بارشوں کی ایک اور لہر کی پیش گوئی کرتے ہوئے عوام سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، خاص طور پر حساس سیاحتی علاقوں میں جانے سے پرہیز کرنے اور سرکاری مشوروں پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ اس کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے اور شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ناگہانی واقعے کی اطلاع یا معلومات کے حصول کے لیے ٹول فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔
