geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
July 25, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologistsسمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا
    • US and Iran Halt Fire Again in Ormuz Strait Standoffآبنائے ہرمز پر دشمنی کا نیا خاتمہ، بحری آمد و رفت بحال؛ قطر میں تکنیکی مذاکرات متوقع
    • Heatwave Survival Guide for Summer Travelersگرمی کی لہر میں سفر: ماہرین کی انتباہات اور چھٹیاں محفوظ بنانے کے 7 سنہری اصول
    صحت و تندرستی
    • Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologistsسمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا
    • France Braces for New Heatwave with Temperatures Soaring to 42°Cفرانس میں نئی قیامت خیز گرمی کی لہر، درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان
    • WMO Warns Strong El Niño to Develop Rapidly by Fallال نینو ستمبر تک طاقتور صورت اختیار کر لے گا، عالمی ادارے کی شدید موسم کی وارننگ
    دلچسپ اور عجیب
    • فرانس میں تاریخی قدم: بچوں کے ویڈیو گیم ‘پاپینز’ کی قیمت سوشل سیکیورٹی سے ادا کرنے کی سفارش
    • Southern France on Red Alert as Wildfire Danger Peaksفرانس میں جنگلات کی آگ کا ریڈ الرٹ: چھ اضلاع انتہائی خطرے کی زد میں، تیز ہوائیں پریشانی کا باعث
    • Wikipedia Founder Rejects AI for Article Editingوکیپیڈیا کے شریک بانی کا اے آئی ایڈیٹنگ کو مسترد کرنے کا اعلان، ’ہیلوسینیشنز‘ کو سنگین مسئلہ قرار دے دیا
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Meta Smart Glasses: The Hidden Privacy Threat in Plain Sightمیٹا اسمارٹ گلاسز: فیشن ایبل چشمہ یا پوشیدہ نگرانی کا جدید ہتھیار؟
    • Google Launches AI Search Summaries in Franceگوگل نے فرانس میں اے آئی سرچ کا نیا انجن لانچ کر دیا: اب لنک پر کلک کیے بغیر ہی ملے گا جواب
    • France Bans Social Media for Under 15s From Sept 1فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا قانون منظور: کیا یہ واقعی قابلِ عمل ہے؟
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

حجاب : حسن نسوانیت

September 3, 2020 1 1 min read
Hijab
Share this:

Hijab

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی

قرآن مجید میں اﷲ تعالی نے حکم دیا ہے کہ” یٰاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآئِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ اَدْنٰی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(٣٣:٥٩)”ترجمہ:اے نبیۖ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دوکہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں،یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں اوراﷲ تعالی غفورالرحیم ہے”۔اس آیت میں لفظ ”جلابیب”استعمال ہوا ہے جو ”جلباب”کی جمع ہے،جلباب سے مراد ایسی بڑی چادر ہے جس سے پورا جسم ڈھک جائے ۔اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنی چادر اچھی طرح لپیٹ کر اس کا ایک پلو اپنے اوپر لٹکا لیں۔حضرت عمر فاروق کے زمانے میں قاضی شریح سے اس آیت کا مطلب پوچھاگیاتو وہ قولاََجواب دینے کی بجائے کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر سے اس طرح اپنے کل جسم کو سر تا پاڈھانپ لیا کہ صرف ایک آنکھی باہر رہ گئی۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم نے اپنے کپڑوں میں سے موٹے کپڑے چھانٹ کر علیحدہ کیے اور ان سے اپنے دوپٹے بنالیے۔ایک مسلمان خاتون ام خلادرضی اﷲ تعالی عنھا کا بیٹا ایک جنگ میں شہید ہوگیا،اتنی بڑی پریشانی کی حالت میں خدمت اقدس ۖمیں پیش ہوئیںاور معاملے کے بارے میں اس حالت میں استفسارفرمایاکہ جسم مکمل طور پر چادر میں ڈھکاہواتھااور چہرے پر نقاب تھا۔اصحاب رسولۖ نے حیرانی کااظہارکیاکہ صدمے کی اس حالت میں بھی اس قدر پردہ؟؟؟تو اس صحابیہ نے جواب فرمایا کہ بیٹا کھویاہے ،شرم و حیاتو نہیں کھوئی۔

اسی طرح ایک اور مقام پر اﷲ تعالی نے فرمایا کہ”ِّ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ذٰلِکُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَ قُلُوْبِہِنَّ وَ مَاکَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ (٣٣:٥٣)”ترجمہ:”نبیۖ کی بیویوں سے اگرتمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگاکرویہ تمہارے لیے اور اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے ،تمہارے لیے یہ ہرگزجائزنہیں کہ اﷲ کے رسولۖ کو تکلیف دو”۔اس آیت میں حکم حجاب کے ساتھ ساتھ مصلحت حجاب بھی بتادی گئی۔اس آیت کے نزول سے پہلے تمام مسلمان بلاروک ٹوک امہات المومنین کے پاس آتے جاتے تھے جبکہ کچھ مسلمانوں کو یہ بات سخت ناگوار محسوس ہوتی تھی اور ایک بار تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اس کا اظہار کر بھی دیاکہ کاش آپۖ امہات المومنین کو پردے کا حکم دیتے۔آخر کار یہ آیات نازل ہوئیں جس کے بعد صرف محرم مرد ہی امہات المومنین کے ہاں آتے جاتے اور باقیوں کے لیے پردے کی پابندی عائد کر دی گئی۔قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ کسی ایک فرد یا طبقے کو حکم دے کر کل امت مراد لیتاہے مثلاََنبی علیہ السلام کومخاطب کر کے حکم دیا جاتا ہے لیکن اس سے مرادکل امت کوحکم دینا ہوتاہے،اسی طرح یہاں بھی اگرچہ صرف امہات المومنین کو حکم دیا گیا لیکن اس حکم کی مطابعت کل صحابیات نے کی اور مدینہ کے کل گھروں میں پردے لٹکا دیے گئے اور عام لوگوں کاگھروں میں آناجانا بندہو گیاسوائے محرم مردوں کے۔اس طرح سے مخلوط مجالس اور مردوزن کے آزادانہ میل جول پر کلیتاََ پابندی لگ گئی۔

اسی سورة میں ایک اور جگہ ارشاد فرمایا کہ” وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرَّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْاُوْلٰی(٣٣:٣٣)”:ترجمہ (اے خواتین اسلام)اور اپنے گھروں میں رہاکرواور دورجاہلیت کی سج دھج نہ دکھاتی پھراکرو”۔اس آیت میں لفظ ”تبرج”وارد ہواہے جس کے تین معانی ہیں ١۔اپنے چہرے اور جسم کی موزونیت اور حسن لوگوں کو دکھانا،٢۔اپنے چمکتے زیوروں اور زرق برق لباس اور سامان آرائش کی نمائش کرنااور٣۔اپنی چال ڈھال اور نازوانداز سے خود کو نمایاں کرنا۔پس عورت کا میدان کار اس کے گھر کی چار دیواری ہے ،محسن نسوانیتۖنے فرمایا کہ ”عورت تو سراپا پردہ ہے،جب وہ گھرسے نکلتی ہے تو شیطان اسے گھورتاہے اور وہ اﷲ تعالی کی رحمت کے قریب تر اسی وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندر ہو”۔ان احکامات کے نتیجے میں کسی مجبوری یعنی تعلیم یا علاج یاصلہ رحمی کے لیے تو گھرسے نکلنا بجا لیکن محض کھیل تماشے اور سیر سپاٹے کے لیے اس طرح گھر سے نکلنا کہ عورت کے ساتھ اس کی تمام تر عیش سامیانیاں بھی موجود ہوں ،تو اس سے کلی طور پر منع کر دیا گیا۔جو لوگ کسی بھی طرح سے عورت کو بلا کسی شرعی عذرکے گھر سے باہر نکالنے کا جواز پیش کرتے ہیں وہ دراصل دانستہ یا نادانستہ اصحاب سبت کا کردار اداکرنے کی کوشش کرتے ہیںجنہوں نے اﷲ تعالی کے حرام کو حلال اورحلال کو حرام کرنے کی کوشش کی تھی اور اس کے لیے حیلے بہانے تراشے تھے پس وہ قوم ذلیل بندر بنادی گئی اور ان کی نسل ہی ختم ہو گئی۔حقیقت یہ ہے کہ اﷲ تعالی اپنے احکامات اوراپنے نیک بندوں کامذاق و استہزابالکل بھی پسند نہیں ہے ۔یہودیوں کے بارے میں قرآن نے نقل کیاہے کہ ”سمعنا وعصینا”کہ ہم نے سن لیالیکن مانا نہیں اور نافرمانی کی جبکہ مسلمانوں کے بارے میں قرآن نے بتایا کہ ”سمعنا واطعنا”کہ ہم نے سنا اور مان بھی لیااور اطاعت و فرمانبرداری بھی کی،سو جس جس تک یہ احکامات پہنچے اس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ بلا چوں و چراان کو تسلیم کر لے۔

اسی طرح کاایک حکم اﷲ تعالی نے سورة نور میں بھی ارشاد فرمایا ہے کہ” وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَ لَایُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اٰبَآئِہِنَّ اَوْ اٰبَآئِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اَبْنَآئِہِنَّ اَوْ اَبْنَآئِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِیْ اَخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِیْ اَخَوٰتِہِنَّ اَوْ نِسَآئِہِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُوْلِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیَعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ وَ تُوْبُوْ ا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ(٢٤:٣١)”ترجمہ:اے نبیۖمومن عورتوں سے کہہ دو اپنی نظریں بچاکہ رکھیںاور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا طبناؤ سنگھار نہ دکھائیں سوائے اس کے کہ جو خود ہی ظاہر ہو جائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رکھیںوہ(مومن عورتیں)اپنا بناؤ سنگھار(صرف) ان لوگوں کے سامنے ظاہر کر سکتی ہیں :شوہر،باپ،شوہروں کے باپ،،اپنے بیٹے،شوہروں کے بیٹے،بھائی،بھائیوں کے بیٹے ،بہنوں کے بیٹے ،اپنے میل جول کی عورتیں،اپنے لونڈی غلام،وہ زیردست مرد جوکسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جوعورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں ۔وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپارکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے،اے مومنوتم سب مل کر اﷲ تعالی کے حضور توبہ کرو توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے۔”اس آیت میں اسﷲتعالی نے بڑی وضاحت سے بتادیاہے کہ صرف محرم مرد وں کے سامنے ہی اپنی زیب و زینت کااظہار کیاجا سکتا ہے اوربس۔

آواز کے پردہ سے متعلق سورة احزاب میں اﷲتعالی کا حکم ہے کہ” یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہ مَرَض وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا(٣٣:٣٢)” ترجمہ:نبیۖ کی بیویو؛تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو،اگرتم اﷲتعالی سے ڈرنے والی ہو تو(مردوں سے)دبی دبی زبان میں بات نہ کیاکرو کہ دل کی خرابی کاکوئی شخص لالچ میں پڑ جائے بلکہ صاف سیدھی بات کرو”۔یہاں ایک بار پھر قرآن مجید نے اپنے عمومی اسلوب کے مطابق امہات المومنین کو خطاب کر کے تو تمام خواتین اسلام کو مراد لیاہے۔اس آیت میں عورتوں کوآواز کے پردے کی تلقین کی گئی ہے۔اسلام کے قوانین عورتوں کو بلاضرورت مردوں سے گفت و شنید کی اجازت نہیں دیتاتاہم اگر بامرمجبوری بات کرنی بھی پڑے تو خواتین کے لیے اﷲ تعالی کاحکم ہے کہ اپنی آواز میں نرمی اختیار نہ کریںکہ مبادا کسی کے دل میں کوئی بری آس و امید جنم لے بلکہ سیدھی اورصاف بات کی جائے تاکہ معاشرے کا ماحول انتہائی پاکیزہ رہے اوراخلاقی آلودگیوں سے انسانوں کو بچایا جا سکے۔یہ تمام احکامات اگرچہ کسی قدر دقت طلب ضرور ہیں لیکن ان کے ثمرات کو دیکھاجائے تو دنیاوآخرت کی کامیابیوں کے نتیجے میں ان احکامات کی مشقت گویا کچھ بھی نہیں،نظروں کی پاکیزگی براہ راست کردار پر اثر انداز ہوتی ہے اور کردار کی پاکیزگی سے ہی نسلوں کا حسب نسب وابسطہ ہے۔

پس عورت کو چاہیے کہ اپنا ستر،جس میں منہ اور ہاتھ کے سواکل جسم داخل ہے،چھپائے رکھے،جہاں محرم مردہوں وہاں زیب و زینت کے ساتھ آ سکتی ہے جہاں بہت قریبی رشتہ دار ہیں وہاں بغیر زیب و زینت کے آسکتی ہے تاکہ قطع رحمی واقع نہ ہواور جو جگہ بالکل غیر مردوں کی ہو وہاں مکمل پردے ،نقاب اور حجاب کی پابندی کے ساتھ آئے حتی کہ اپنی آوازکو بھی شیرینی سے خالی کر کے گفتگوکرے۔یہ تعلیمات عورت کی فطرت کے عین مطابق ہیں جس سے عورت کی نسوانیت محفوظ رہتی ہے ،اس کی عفت و پاک دامنی کاجوہرمیلا نہیں ہوتااور عنداﷲوہ عورت بہت بڑے اجر کی حق دار ٹہرے گی۔جوعورتیں ان احکامات کا خیال نہیں رکھتیںتو مردوں کے ساتھ مسلسل میل جول کے نتیجے میں ان کے چہروںسے ملائمیت و نورانیت و معصومیت رخصت ہو جاتی ہے،ان کے رویوں میں عجیب سی غیرفطری کرختگی آجاتی ہے اورنتیجة وہ ایک ایسی شخصیت میں ڈھل جاتی ہیں جس میں مامتا،زوجہ اورخواہرہ جیسے اوصاف عنقا ہو جاتے ہیںاورپھرایسی عورتوں سے وابسطہ مردحضرات تلاش نسوانیت میں جب گھرسے باہر نظریں دوڑاتے ہیں تو معاشرے میںایک نہ ختم ہونے والا برائی کادائرہ شروع ہو جاتاہے جسے قرآن نے کہاکہ ” عَلَیْہِم دَآئِرَةُ السَّوْئ”کہ وہ برائی کے گھیرمیں آجاتے ہیں۔پھروہ اپنے خلاف شریعت کاموں کا حیلوں بہانوں سے جواز ڈھونڈتے ہیں اور ضعیف روایات،غیرمصدقہ واقعات اور کچھ غیرمستندفتاوی کاسہارالے کر وحی الہی کی مخالفت کرتے ہیںاورگناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔جب ان کی زندگی مسلسل انہیں گناہوں کی نذرہوجاتی ہے تو قرآن مجید کے مطابق ”’خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَ عَلٰی سَمْعِہِمْ وَ عَلٰی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَة وَّ لَہُمْ عَذَاب عَظِیْم(٢:٧)’ترجہ ”اللہ تعالی نے ان کے دلوں پر اوران کے کانوں پرمہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں کے آگے پردہ پڑ گیاہے اوران کے لیے دردناک عذاب ہے”۔ایسے لوگوں کوان کے بداعمال خوشنمابناکر دکھائے جاتے ہیں اور ان کی ہدایت کے راستے مسدودہوجاتے ہیں؛” وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَہُمْ لَا یَہْتَدُوْنَ(٢٧:٢٤)ترجمہ”شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنادیے ہیںاورانہیں شاہراہ سے روک دیاہے پس وہ سیدھاراستہ نہیں پاتے ۔

اس طرح کے حوس نفس کے پجاری اپنی آتش حیوانیت بجھانے کے لیے خواتین کو خوبصورت نعروں سے رجھاتے ہیں،بدکاری کی آزادی کو خواتین کی آزادی قراردیتے ہیں،اختلاط مردوزن جیسے قبیح فعل کو خواتین کی طاقتوری قراردیتے ہیں اورمردانہ نصاب تعلیم ہی عورتوں کو پڑھاکر اسے خواتین کی تعلیم و ترقی قراردیتے ہیں۔یہ سیکولر تہذیب کے گماشتے ہیں جنہوں نے عورت سے اس کی نسوانیت سلب کر لی ہے،اس کے سینے سے بہنے والے جنت کے چشموں کی جگہ اسے ہونٹوں سے انگورکی بیٹی کا مشروب لگادیاہے،اس کے پیٹ کے مقدس اورفطری بوجھ سے محروم کر کے اس پر معاش کابوجھ ڈال دیاہے،اس کی گود سے جنت کواس کے پاؤں تلے لے جانے والے نفوس سے محروم کر کے اس کو اپنے پیداواری مصنوعات کی مشہوری وبڑھوتری کا ذریعہ بنالیاہے ۔آج اکیسویں صدی میں نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ کل سرمایادارانہ نظم معیشیت نسوانیت کے حسن کی بنیادپر چل رہاہے اور اس کے نتیجے میں دنیابھرکا خاندانی نظام تباہی کے دہانے پر آن کھڑاہواہے۔کل انسانی تاریخ میں جس طرح کانسوانی استحصال آج کی سکیولرمغربی تہذیب نے کیاہے ماضی میں اس کی مثال عنقا ہے،یہاں تک کہ عورتوں سے وابسطہ اخلاقی معیارات ہی تبدیل کر دیے ہیں ان ظالم سیکولرمردوں نے۔”تماشادکھاکرمداری گیا”کے مصداق آج کی عورت جان چکی ہے کہ اس کی فلاح و کامیابی اور اسکے حقوق کا تحفظ صرف محسن نسواںۖ کی تعلیمات میں ہی پوشیدہ ہے اور اب عالمی سطح پر ”گھر کو واپسی”(Back To Home)کے نعروں کے ساتھ خواتین کی تحریکیں متحرک ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ ہمیں گھریلوذمہ داریوں واپس کرو اور دنیاکاکاروبار معیشیت و معاشرت و سیاست خود سنبھالو۔

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی
drsajidkhakwani@gmail.om

Share this:
Hunaid Lakhani
Previous Post وزیراعظم عمران خان کراچی کے لیئے خوشخبری لیکر آ رہے ہیں، حنید لاکھانی
Next Post قدرت کے رنگ
Natural Landscapes

Related Posts

Meta Smart Glasses: The Hidden Privacy Threat in Plain Sight

میٹا اسمارٹ گلاسز: فیشن ایبل چشمہ یا پوشیدہ نگرانی کا جدید ہتھیار؟

July 23, 2026
Google Launches AI Search Summaries in France

گوگل نے فرانس میں اے آئی سرچ کا نیا انجن لانچ کر دیا: اب لنک پر کلک کیے بغیر ہی ملے گا جواب

July 23, 2026
Wildfire Near Arcachon Forces 20,000 Evacuations

آرکاشوں کے قریب جنگل کی ہولناک آگ: 24 گھنٹوں میں 20 ہزار افراد کا انخلاء، 2400 ہیکٹر رقبہ خاکستر

July 23, 2026
DZ Mafia Denies Targeting Mayor in Video

ڈی زیڈ مافیا کی ویڈیو جاری، میئر کو دھمکیوں سے لاتعلقی کا اعلان: “ہمارے کاروبار کو نقصان پہنچ رہا ہے”

July 23, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.