کچھ عرصہ قبل تک ایسا لگتا تھا کہ ایپل جیسی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا چین میں پیداواری عمل ایک عقلمندانہ کاروباری قدم ہے۔ کم لاگت اور زیادہ منافع کا یہ سادہ سا حساب کتاب درحقیقت چین کے طویل المدتی مفادات کی نذر ہوگیا۔ ماہرین کے مطابق، چین نے جان بوجھ کر امریکی کمپنیوں کو اپنی جانب راغب کیا تاکہ وہ ٹیکنالوجی، مہارت اور جدت کے حصول میں انہیں بطور ذریعہ استعمال کر سکے۔
پرنسٹن یونیورسٹی کے محقق کائل چن کے مطابق، “یہ محض سستا پیداواری مرکز نہیں تھا۔ چین نے واضح حکمت عملی کے تحت ان کمپنیوں سے اپنی معیشت کو بہتر بنانے کا کام لیا۔” ایپل، ووکس ویگن، انٹیل اور سیمسنگ جیسی کمپنیوں نے چین کو نہ صرف پیداواری صلاحیت بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی منتقل کی۔
پیٹرک مگی اپنی کتاب ‘ایپل ان چائنا’ میں بتاتے ہیں کہ ایپل کے 90% سے زائد مصنوعات چین میں تیار ہوتی ہیں۔ اس عمل نے چینی مینوفیکچررز کو فنڈنگ، تربیت اور سپلائی چین مینجمنٹ کی وہ مہارت دی جو اب چین کے لیے مغرب کے خلاف ہتھیار ثابت ہو رہی ہے۔ وقت کے ساتھ چینی سپلائرز نے غیر ملکی کمپنیوں کی جگہ لے لی، خاص طور پر سکرینز، ڈسپلے اور چپس کے شعبوں میں۔
مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں چین نے قابل ذکر پیشرفت کی ہے۔ ڈیپ سیک نامی چینی چیٹ بوٹ نے کم وسائل میں چیٹ جی پی ٹی جیسا ماڈل تیار کر کے عالمی حلقوں میں حیرت پیدا کی۔ اگرچہ امریکہ نے چپس کی برآمد پر پابندیاں عائد کی ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق یہ پابندیاں چین کو مزید خود انحصاری کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
چین کے فوائد میں اس کی وسیع آبادی، مرکزی منصوبہ بندی اور ڈیٹا کی دستیابی شامل ہیں۔ دی ایشیا گروپ کے ہان شین لن کہتے ہیں، “چین ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنی پوری آبادی پر آزماسکتا ہے۔” ادویات سازی سے لے کر ادائیگی کے نظاموں تک، جدید ٹیکنالوجی چینی معاشرے میں تیزی سے سرایت کر رہی ہے۔
تاہم، ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ عالمی تعاون اور معیارات کے بغیر چین کی راہ میں رکاوٹیں موجود ہیں۔ چین نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو جیسے منصوبوں کے ذریعے عالمی جنوب میں اپنی رسائی بڑھائی ہے اور بین الاقوامی اداروں میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔




