سپریم کورٹ میں عدالت عالیہ جیل راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی تفصیلی رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔
رپورٹ کی اہم تفصیلات
تین صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں 73 سالہ سابق کرکٹر کی سات سیلوں پر مشتمل کمپاؤنڈ میں رہائش اور دستیاب آسائشوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں سزاؤں کے تحت جیل میں ہیں، جنہیں وہ 2022 میں پارلیمانی ووٹ کے ذریعے ان کی برطرفی کے بعد سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہیں۔
رہائشی احاطے کی تفصیل
رپورٹ کے مطابق، عمران خان کے جیل کمپاؤنڈ میں 57 فٹ لمبا اور 14 فٹ چوڑا راہداری شامل ہے جو 35/37 لان کے متصل واقع ہے۔ یہ احاطہ 30 سے 35 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش رکھتا ہے۔
روزمرہ کے معمولات
جیل انتظامیہ کے بیان کے مطابق، سابق وزیراعظم لان میں کتابوں اور اخبارات کی مطالعہ کرتے ہوئے دھوپ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ورزش کے لیے انہیں سائیکلنگ مشین اور دیگر جم کے آلات تک رسائی حاصل ہے۔
خوراک کا معیار
- ناشتے میں کھجور، اخروٹ، شہد، کافی، دلیہ، لسی، گرم دودھ، چیا کے بیج اور انار کا جوس شامل ہے۔
- دوپہر کے کھانے میں دیسی چکن، مٹن، سلاد، مخلوط اچار، آلو کے چپس، تلے ہوئے انڈے اور مختلف دالیں پیش کی جاتی ہیں۔
- شام کے وقت بادام، کشمش، کدوکش ناریل، دودھ، کھجور، کیلا اور سیب مل کر بنایا گیا شیک دیا جاتا ہے۔
صحت اور حفاظتی صورتحال
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو پورے دن قدرتی روشنی اور تازہ ہوا تک رسائی حاصل ہے اور انہیں مناسب درجے کی سہولیات کے ساتھ محفوظ ماحول میں رکھا گیا ہے۔ یہ تفصیلات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب گزشتہ ہفتے ان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں بتایا تھا کہ سابق کرکٹر نے حراست کے دوران اپنی دائیں آنکھ کی بینائی کا کافی حصہ کھو دیا ہے۔ تاہم پیر کو ایک میڈیکل بورڈ نے بتایا کہ علاج کے بعد سوجن کم ہو گئی ہے اور ان کی بینائی میں بہتری آئی ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی یہ رپورٹ سابق وزیراعظم کی جیل میں زندگی کے معیار اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے سرکاری موقف کی عکاس ہے۔
