geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
November 5, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • France's Protest Aftermath: When Dinner Table Debates Turn Toxicفرانس میں مظاہروں کے بعد خاندانی مباحثے: تشدد کی خبریں، مطالبات نظرانداز
    • Why Some Friends Overshare and Others Wait to Be Askedکیا آپ کی دوستی میں بھی گفتگو کا سارا بوجھ آپ اٹھاتے ہیں؟ ماہرین نے “رضاکار” اور “مہمان” طرزِ گفتگو کے راز کھول دیے
    • Six Autumn Escapes in France You Can Reach Without a Carفرانس میں بغیر گاڑی کے خزاں کی سیر: چھ خوبصورت مقامات جہاں پبلک ٹرانسپورٹ سے پہنچا جا سکتا ہے
    صحت و تندرستی
    • Two Wheels, New Worries: The Hidden Stress of the Urban Cycling Boomسائیکلنگ کی سہولت یا خوف؟ فرانسیسی شہروں میں سائیکل سواروں کی بڑھتی پریشانیاں
    • Beat the Yo-Yo Effect With Protein and Strength Trainingڈائٹ کے بعد وزن واپس بڑھنے سے بچنے کا مؤثر طریقہ: ہر کھانے میں پروٹین اور طاقت کی مشقیں
    • Black Market for Eli Lilly's Retatrutide Raises Alarmغیر منظور شدہ موٹاپا کش دوا ریٹاٹروٹائیڈ کی آن لائن غیر قانونی فروخت پر تشویش
    دلچسپ اور عجیب
    • Justice Takes the Wheel: French Electro Duo to Score GTA VI Soundtrackجسٹس فرانسیسی الیکٹرو جوڑی جی ٹی اے 6 کی ساؤنڈ ٹریک تیار کرے گی
    • Drought and Heatwaves Halve Ardèche Chestnut Harvest as Europe Braces for Price Risesخشک سالی اور گرمی کی لہروں نے فرانس میں شاہ بلوط کی فصل کو تباہ کر دیا
    • Salt Stomping: TikTok's Viral Sleep Hack That Experts Say Doesn't Workسالٹ اسٹامپنگ: کیا نمک پر چلنا واقعی نیند کو بہتر بناتا ہے؟
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Mom Slams School for AI-Generating Adult Photo of 6-Year-Oldامریکی اسکول کا چھ سالہ بچی کی “بالغ شکل” بنانے پر تنازعہ: والدین کی اجازت کے بغیر مصنوعی ذہانت کا استعمال
    • Critical PHP Flaws Take Down Global Government Websitesپی ایچ پی میں خطرناک سیکیورٹی خامیاں، دنیا بھر میں سرکاری ویب سائٹس آف لائن
    • Justice Takes the Wheel: French Electro Duo to Score GTA VI Soundtrackجسٹس فرانسیسی الیکٹرو جوڑی جی ٹی اے 6 کی ساؤنڈ ٹریک تیار کرے گی
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

عمران خان حکومت، آئی ایم ایف معاملات

February 13, 2019 1 1 min read
Imran Khan
Share this:

Imran Khan

تحریر : محمد صدیق پرہار

اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہم تمام ترانحصارآئی ایم ایف پر نہیں کر رہے، آئی ایم ایف معیشت میں بہتری کے لیے صرف ایک آپشن ہے ،آئی ایم ایف نے کوئی غیرمعاشی شرط نہیں لگائی اس سے واضح ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف نے شرائط رکھی ہیں۔ اب یہ مالیاتی ادارہ ہے اسی تناسب سے ہی شرائط لگائے گا،آئی ایم ایف سے رجوع معیشت کی بہتری کے لیے کیاجارہا ہے تواس کی شرائط بھی معاشی ہی ہوں گی۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ مزاکرات جاری ہیں جیسے ہی اچھاپروگرام فائنل ہوامعاہدہ کرلیں گے۔اس کے دورروزبعد وفاقی وزیرخزانہ کاکہناتھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مزاکرات جاری ہیں جب آئی ایم ایف کی جانب سے اچھاپروگرام ملے گاتومعاہدہ کرلیں گے ،معاہدے پردستخط آنکھ بندکرکے نہیںکریں گے۔وزیراعظم عمران خان فنڈز کے متبادل انتظام میںکامیاب رہے ہیں اب ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ بہترپروگرام کے لیے بات چیت کاوقت مل گیاہے ۔موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے علاوہ دیگرانتظامات پربھی توجہ مرکوزکیے ہوئے ہے، ہماری حکومت پہلی سول حکومت ہے جوآئی ایم ایف سے ہٹ کراتنے بڑے پیمانے پرمالی انتظام کرنے میں کامیاب ہوئی ہے ،آئی ایم یف کے بغیرگزاراممکن ہے تاہم ملکی معیشت کی ضروریات کے پیش نظر مختلف آپشنزکاموازنہ کرتے ہوئے انہیںبروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

ایک خبریہ بھی ہے کہ حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کے کہنے پربجلی کی قیمتوںمیں اضافے اورشرح سودبڑھانے سے انکارکردیا۔وزیراعظم عمران خان کی آئی ایم ایف کی ڈائریکٹرکرسٹین لیگارڈسے ملاقات دبئی میںہونے والی ورلڈگورنمنٹ سمٹ کے موقع پرہوئی ۔چالیس منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میں عمران خان نے اپنی حکومت کے کرپشن کے خلاف جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔آئی ایم ایف کی سربراہ نے اقدامات کوسراہتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کے کرپشن کے خلاف اقدامات قابل ستائش ہیں۔ملاقات میں ملکی معاشی صورت حال اوربیل آئوٹ پیکج پربات کی گئی۔وزیراعظم عمران خان کاکہناتھا کہ آئی ایم ایف کے پاکستان سے تعاون کوسراہتے ہیں ۔حکومت پاکستان معیشت کے استحکام کے لیے پرعزم ہے ،حکومت پاکستان معاشی اصلاحات کررہی ہے اورملک میں سماجی تحفظ کوفروغ دے گی۔

عالمی مالیاتی ادارے کے اعلامیے کے مطابق منیجنگ ڈائریکٹرکرسٹین لیگارڈ کاکہناتھا کہ وزیراعظم عمران خان سے اچھی اورتعمیری ملاقات ہوئی جس میںپاکستان میں حالیہ معاشی ترقی اورمستقبل کے امکانات پربات چیت ہوئی ،پاکستان کے ساتھ جاری آئی ایم ایف پروگرام پربات چیت کے تناظرمیں گفتگوہوئی جس میںمیںنے اس عزم کااعادہ کیاکہ آئی ایم ایف پاکستان کی مددکے لیے تیارہے ۔آئی ایم ایف کی ایم ڈی کے مطابق فیصلہ کن پالیسیوں اورمعاشی اصلاحات کے مضبوط پیکج سے پاکستانی معیشت میں استحکام آئے گا۔پاکستان کی حکومت درست سمت معاشی اقدامات کررہی ہے اورمعیشت کی بہتری کے لیے پاکستان سے تعاون جاری رکھیں گے۔اعلامیے کے مطابق پاکستان اورآئی ایم ایف معاشی اصلاحات پرمتفق ہیں۔متحدہ عرب امارات روانگی سے قبل وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ ہماری کوشش یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے سربراہ کے ساتھ ایسی شرائط طے ہوں جن سے عوام پرکوئی بوجھ نہ پڑے ۔ فواد چوہدری کاکہناتھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ایسی شفاف ڈیل چاہتے ہیںجوقلیل مدت میں پاکستان کے لیے مددگارہواورہمارے طویل مدتی معاشی مقاصد پر اثر اندازنہ ہو، انہوںنے کہا کہ پاکستان کسی متعلقہ بیل آئوٹ پیکج کاخواہاںہے ایسی شرائط نہیں چاہتے جن سے پاکستان کی شرح نموکونقصان پہنچے۔ ایک خبریوں ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے ایک بارپھرڈومورکامطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آبادمالیاتی پیکج لینے کے لیے مزیداقدامات کرے۔

آئی ایم ایف کے پاکستان مزیداقدامات کرے کہنے سے یہ واضح ہوتاہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پرپہلے ہی عمل کررہاہے۔ عمران خان کی حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف کی شرائط پرعمل کرنے کوآئی ایم ایف بھی تسلیم کرچکاہے ۔ آئی ایم ایف کایہ کہناکہ پاکستان مزیداقدامات کرے یہ بھی واضح کرتا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کی طرف سے اس کی شرائط پرعمل درآمدکوتسلیم توکرتاہے تاہم وہ ان شرائط پرعمل کرنے سے مطمئن نہیں ہے اس لیے عالمی مالیاتی ادارے نے مزیداقدامات کر نے کاکہاہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کی ناکافی ٹیکس آمدن ،بینکوں سے قرض لینے کی زیادہ شرح اورمعاشی اصلاحات کی رفتارکم ہونے پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایک نجی ٹی وی کے مطابق آئی ایم ایف کاکہناہے کہ پاکستان نے نیاقرض لیناہے توبجلی،گیس مہنگی کرنی ہوگی ،معاشی اصلاحات کی رفتاربھی تیزکرناہوگی ، نئے ٹیکس بھی لگاناہوں گے۔وزیرخزانہ کاکہناتھا کہ آئی ایم ایف ہمدردی کی بنیادپراقدامات نہیں اٹھاتا۔ اس بات سے توسب اتفاق کریں گے کہ جب بھی کوئی کسی سے قرض لیتاہے تووہ کسی نہ کسی مجبوری کے تحت ہی لیتا ہے۔قرض لینے والاکسی ایسی مشکل میںہوتاہے کہ قرض لینے کے علاوہ اس مشکل سے نکلنے کااس کے پاس کوئی آپشن نہیںہوتا۔ یہ بھی کہاجاتاہے کہ قرض دینے والاقرض لینے والے کی مشکلات دورکرنے کاسبب بنتاہے۔ قرض مل جانے سے قرض لینے والے کی مشکلات دورنہیںتوکم ضرورہوجاتی ہیں۔ کئی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان سے قرض لینے والاکتنی بڑی مشکل میں ہے، ان سے قرض مانگنے والاکتنی بڑی مجبوری میں ہے ، اس لیے وہ اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مقروض کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاکرقرض دینے والے قرض مانگنے والے سے اپنی من پسندشرائط منوالیتے ہیں۔ اسی طرح آئی ایم ایف بھی جانتاہے کہ پاکستان کس طرح کی معاشی مشکلات میں گھراہواہے۔ وہ یہ بھی جانتاہے کہ آئی ایم ایف سے قرض لیناپاکستان کے لیے کتناضروری ہے۔

آئی ایم ایف ایسے قرض دینے والوں میں سے ہے جوقرض لینے والے کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے جب بھی قرض لیاہے اس نے ایسی ہی شرائط رکھی ہیں جوشرائط اس نے اب رکھی ہیں کہ بجلی ،گیس مہنگی کرو یہ کرو و ہ کرو۔جب تک آئی ایم ایف کی شرائط پرعمل نہ کیاجائے قرض نہیںملتا۔ یہ بھی کہاجاتاہے کہ قرض دینے والا اپنے قرض کی واپسی کے لیے اقدامات بھی کرتاہے اسی طرح آئی ایم ایف بھی اس لیے شرائط لگاتاہے تاکہ اس کے قرض کی واپسی ممکن ہوسکے۔آئی ایم ایف کی شرائط پرعمل کرنے سے حکمرانوںکی مشکلات توکم ہو جاتی ہیں کہ انہیںآئی ایم ایف سے قرضہ مل جاتاہے عوام کی مشکلات اوربڑھ جاتی ہیں کہ بجلی ،گیس کے بلوںمیں اضافہ ہوجاتاہے۔وزیرخزانہ درست ہی کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف ہمدردی کی بنیادپراقدامات نہیں اٹھاتا اس جملے میں یہ جملہ بھی موجودہے کہ آئی ایم ایف اپنے مفادات کی بنیادپراقدامات اٹھاتاہے۔ اس سے واضح ہوتاہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کوقرض پاکستان کی معاشی مشکلات دورکرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے کسی مفادکے تحت ہی دیتا ہے۔

اس جملے سے وزیر خزانہ یہ بھی تسلیم کررہے ہیں آئی ایم ایف کوپاکستان کی معاشی مشکلات دورکرنے سے کوئی دل چسپی نہیں۔وزیرخزانہ اسدعمرنے کہا کہ آئی ایم ایف سے پاکستان کی معیشت کے لیے اقدامات پراتفاق رائے ہوا۔ دوسرے لفظوںمیں عمران خان کی حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط مان لی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے پردستخط کرناچاہتے ہیں جب معاہدہ ہوگاعوام کوبتایاجائے گا۔ اسلام آبادمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائودکاکہناہے کہ ہماری پالیسی اورگاڑی بالکل ٹھیک چل رہی ہے۔

روپے کی قدرمیںکمی کافائدہ آئندہ پانچ ماہ میںنظرآئے گا۔ملک میں درآمدات کم اورسات ماہ میں دوارب ڈالرکی بچت ہوئی ہے۔گزشتہ مالی سال کے پہلے سات ماہ میں چونتیس اشاریہ چھبیس ارب ڈالرجب کہ رواںمالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران بتیس اشاریہ چون ارب ڈالررہیں۔گزشتہ مالی سال تجارتی خسارہ اکیس اشاریہ تین ارب ڈالرتھا رواںمالی سال انیس اشاریہ دوارب ڈالرہے ۔رواں سال برآمدات سات ماہ میں تیرہ ارب ڈالرسے زیادہ رہیں۔

برآمدات میں صرف چارفیصداضافہ ہواہے۔ آئی ایم ایف سے مزاکرات سے متعلق ان کاکہناتھا کہ آئی ایم ایف نے بجلی اورگیس کی قیمت بڑھانے کی کوئی بات نہیں کی۔ صرف یہ بات ہوئی کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میںجائیں گے ۔ مشیرتجارت کی پریس کانفرنس سے کئی سوالات جنم لے چکے ہیں کہ وزیرخزانہ نے کہاتھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جاناآخری آپشن ہوگا۔ اس بات کوآسان لفظوں میںیوں سمجھ لیں کہ وزیرخزانہ نے کہاتھا کہ آئی ایم ایف سے قرض اس وقت لیں گے ،آئی ایم ایف سے معاہدہ اس وقت کریں گے جب ہمارے پاس معاشی مشکلات سے نکلنے کااورکوئی راستہ نہیں رہے گا۔ عمران خان کی حکومت اورآئی ایم ایف کے درمیان معاشی اصلاحات پراتفاق (پاکستان کاآئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرنا) واضح کرتاہے کہ عمران خان کی حکومت کے پاس آئی ایم ایف سے قرض لینے کے سواکوئی آپشن نہیںبچا اس لیے آخری آپشن کواستعمال کیاجا رہا ہے۔

مشیر تجارت کہتے ہیںکہ پاکستان کی معیشت درست سمت چل رہی ہے ،ایساہی ہے توآئی ایم ایف کی شرائط مان کراس سے قرض لینے کی ضرورت کس لیے پیش آئی۔ وزیرخزانہ کے مطابق آئی ایم ایف آخری آپشن ہے کہ معیشت مشکلات میں ہے مشیرتجارت کہتے ہیں کہ معیشت درست سمت چل رہی ہے۔ قارئین خودہی غورکرتے رہیں کہ دونوں شخصیات کے بیانات میںکیافرق ہے۔وزیرخارجہ کہتے ہیں کہ عوام کوتکلیف دے کرآئی ایم ایف سے سمجھوتہ نہیںہوگا۔ قارئین وزیر خزانہ ، مشیرتجار ت کے بیانات کے ساتھ وزیرخارجہ کے بیان کاموازنہ بھی کرلیں۔سیالکوٹ میں اپنی رہائش گاہ پرمیڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئرراہنماخواجہ آصف کاکہناہے کہ عمران خان کے لہجے سے محسوس ہوتاہے کہ وہ انتہائی پریشان ہیں ۔حکومت خوداپنی دشمن ہے۔

گزشتہ چھ ماہ میں حکومت نے صرف پرانے منصوبوںپرتختیاں ہی لگائی ہیں ۔ خواجہ آصف کہتے ہیں نظام کوخطرہ ہے اورہمیں تحفظات ہیں پھربھی چاہتے ہیںنظام چلے ،حکومت نوٹ چھاپ رہی ہے اب تک چودہ سوارب چھاپ چکی ہے۔ ان کاکہناتھا کہ عمران خان جوبائیس سال کہتے رہے اس پرعمل درآمد نہیں کیااب انہیں اکنامک ایڈوائزربھی چھوڑ کر جارہے ہیں ،پہلی مرتبہ ایک وزیراعظم آئی ایم ایف کے پاس جارہاہے۔ خواجہ آصف کہتے ہیں عمران خان نے کہاتھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہترہے خودکشی کرلوں۔مریم اورنگ زیب نے وزیراعظم کی آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات پرکہا کہ حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرچکی ہے۔ انہوںنے کہا کہ پہلی حکومت ہے جس نے چوردروازے سے آئی ایم ایف کی شرائط پرپیشگی عمل کیا۔حکومت آئی ایم ایف سے پیکج لینے سے پہلے ہی مہنگائی کابم کراچکی ہے۔ روپے کی قدرمیں پینتیس فیصدسے زائدکمی ،بجلی، گیس کی قیمتوں ریکارڈ اضافہ پہلے ہی کیاجاچکاہے۔آئی ایم ایف کے پیکج سے پہلے ہی حکومت حج سمیت ہرسبسڈی ختم کرچکی ہے۔ قوم کوبتایاجائے اب کون سی مزیدشرائط طے کی جا رہی ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ حکومت میں آنے سے پہلے اوربعدمیں پی ٹی آئی راہنماآئی ایم ایف جانے کی تردیدکرتے رہے۔عوام اورپارلیمان کو بتایا گیاکہ آئی ایم ایف نہیں جائیں گے۔ اس یقین دہانی کے باوجود حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پاچکاہے تواسے خفیہ کیوں رکھاجارہاہے۔ حکومت آئی ایم ایف سے کتناقرض اورکن شرائط پرلے رہی ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ ملکی معیشت کوبحران میں ڈال کرآئی ایم ایف پیکج لیاجارہاہے۔سالانہ بجٹ سے پہلے آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کامطلب حکومت ملکی معیشت تباہ کرچکی ہے۔شیری رحمان کاکہناہے کہ معاہدے کامطلب ہے کہ اس بارملک کاسالانہ بجٹ آئی ایم ایف سے آئے گا۔ عوام نئے مہنگائی سونامی کے لیے تیار رہیں۔

بجٹ اہداف آئی ایم ایف تیارکرے گا۔اس نے حکومت کوروپے کی قدرمزیدکم کرنے کی شرط بھی رکھی ہے۔آئی ایم ایف کے کہنے پرصوبوںکابجٹ کم کیا جا رہا ہے ۔ ایک قومی اخبارمیں ایک رپورٹ ان الفاظ میں شائع ہوئی ہے کہ آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کے مطالبے پرزیادہ تراقدامات کیے جائیں گے۔وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے شرح پالیسی ،ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قیمت اورایف بی آرکے ٹیکس جمع کرنے کے ہدف پرسخت اقدامات کاکہاہے یوٹیلٹی قیمتوںپربھی آئندہ بجٹ سے قبل اتفاق رائے پیداکیاجائے گاجسے آئی ایم ایف سے مطالبے کی بجائے بجٹ کے فیصلے کے طورپرپیش کیاجائے گا۔پاکستان نے معاہدے سے قبل سرکاری اداروںکودی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ شیخ رشیدکہتے ہیں آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری ہے۔
Muhammad Siddique Prihar

تحریر : محمد صدیق پرہار

siddiqueprihar@gmail.com

Share this:
Fawad Chaudhary
Previous Post حکومت کا سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے والوں کیخلاف بڑے کریک ڈاؤن کا اعلان
Next Post ویلنٹائن ڈے۔۔ کیا ایسا ممکن نہیں
Valentine Day

Related Posts

UNICEF Warns Attacks on Water Systems in Conflict Zones Have Tripled Since 2021

تنازعات میں پانی کے نظام پر حملے تین گنا بڑھ گئے، یونیسف کی سنگین انتباہ

November 5, 2026
Hong Kong Court Hands Joshua Wong 10 More Years in Prison Under Security Law

ہانگ کانگ: جوشوا وونگ کو مزید 10 سال قید کی سزا، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت

November 5, 2026
Westminster Palace at Risk of Notre-Dame-Style Disaster, MPs Warn

ویسٹ منسٹر پیلس: نوٹر ڈیم جیسے بڑے حادثے کا خدشہ، برطانوی ایم پیز کی سنگین وارننگ

November 5, 2026
Democrats Warn Tech Giants: "Prepare Your Lawyers" as Data Center Probes Loom

امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی کمپنیوں کے لیے بڑا خطرہ

November 5, 2026

Popular Posts

1 Vladimir Putin

امریکی میزائل تجربے کا جواب دیا جائے، پوٹن کی ہدایات

2 Imad Wasim

قومی کرکٹر عماد وسیم بھی رشتہ ازدواج میں منسلک

3 Meeting

انجینئر افتخار چودھری نے ریاٹرڈ جرنیل ڈاکٹر محمد مصطفی الجہنی سے ملاقات کی

4 Shah Mahmood Qureshi - António Guterres

شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان رابطہ طے پا گیا

5 Khamisani Socail Welfare Trust

محمد سلیم خمیسانی کا سیفی ویلفیئر سوسائٹی کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد

6 Indian Army in Kashmir

کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باوجود ہزاروں کشمیریوں کا بھارت کیخلاف مظاہرہ

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.