خارجہ دفتر کے ترجمان نے کہا، ‘کسی بھی جارحیت کا مقابلہ خود دفاع کے حق میں کریں گے’
ایران نے پیر کے روز واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی قسم کے فوجی حملے، چاہے وہ محدود ہی کیوں نہ ہو، کا جواب ‘شدید ترین’ طور پر دیا جائے گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی کے بارے میں غور کرنے کا اظہار کیا ہے۔
مذاکرات کے درمیان کشیدگی
امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کا مقصد جمعرات کو دوبارہ شروع ہونے والے مذاکرات میں ایران سے بہتر معاہدہ حاصل کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ٹرمپ محدود فوجی کارروائی کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “کسی بھی حملے، چاہے وہ محدود ہی کیوں نہ ہو، کو جارحیت ہی سمجھا جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا، “اور کوئی بھی ملک جارحیت کے خلاف اپنے خود دفاع کے فطری حق کے تحت ردعمل دے گا، اور ہمارا ردعمل شدید ترین ہوگا۔”
عمانی ثالثی میں بات چیت جاری
دونوں ممالک کے درمیان عمان کی ثالثی میں ہونے والی بالواسطہ بات چیت کا دوسرا دور منگل کو سوئٹزرلینڈ میں اختتام پذیر ہوا۔ ایران اور عمان نے جمعرات کو ہونے والے مزید مذاکرات کی تصدیق کی ہے، تاہم امریکہ کی جانب سے ابھی تک اس بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔
یورپی یونین کی امن کی اپیل
یورپی یونین، جسے ایران معاملے پر ثالثی سے باہر رکھا گیا ہے، نے مذاکرات سے قبل سفارتی حل کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کایا کالاس نے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل کہا، “ہمیں اس خطے میں ایک اور جنگ کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس پہلے ہی بہت کچھ ہے۔” انہوں نے کہا، “یہ سچ ہے کہ ایران اپنے کمزور ترین مقام پر ہے۔ ہمیں اس وقت کو سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔”
ایران کا موقف: صرف جوہری پروگرام پر بات
ایران نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ ثالثی میں ہونے والی بات چیت میں صرف ملک کے جوہری پروگرام پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مغربی ممالک کا خیال ہے کہ یہ پروگرام ایٹم بم بنانے کے لیے ہے، جسے ایران مسترد کرتا آیا ہے۔
ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ کی نمائندگی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کر رہے ہیں۔
تنازعے کے خدشات اور غیر ملکی شہریوں کی روانگی
ایران میں نئے تنازعے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے پیش نظر کئی غیر ملکی ممالک نے اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ بھارت نے پیر کو سویڈن، سربیا، پولینڈ اور آسٹریلیا کے بعد اپنے تقریباً 10,000 شہریوں کو ایران چھوڑنے کا کہا ہے۔
اس صورتحال کے درمیان، ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے آخر میں جامعات کے دوبارہ کھلنے پر طلبہ نے مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ریلیاں نکالیں۔
