اسلام آباد: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے دورہ بیجنگ کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دونوں حکام نے خطے کی تازہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ ٹیلی فونک رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب ایرانی وزیر خارجہ چین کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے بھی ملاقات کی اور علاقائی سلامتی اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر بات چیت کی۔
ایران کی علاقائی سفارت کاری پر زور
چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ملاقات میں عباس عراقچی نے کہا کہ تہران نے خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ایرانی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پرامن تعلقات اور ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ مضبوط روابط کی خواہاں ہے۔
چین کا متوازن مؤقف
دوسری جانب چین نے امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔
- چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ بیجنگ نہیں چاہتا کہ تناؤ مزید بڑھے یا یمن اور بحیرہ احمر سمیت دیگر علاقوں تک پھیل جائے۔
- انہوں نے واشنگٹن اور تہران پر زور دیا کہ وہ حل طلب امور پر بامعنی بات چیت کریں۔
- وانگ یی کے مطابق اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ کے تحت طے پانے والی تفہیمات کی بنیاد پر مذاکراتی فریم ورک کی بحالی کی طرف کام ہونا چاہیے۔
چینی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے اور اسے بات چیت کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔
خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز
خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ دورہ اور پاکستانی فوجی سربراہ سے رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی اور سیکیورٹی صورتحال میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق چین کی ثالثی اور پاکستان کے ساتھ رابطے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
