ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا کہ ایران کے جوہری حقوق کو جنگ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس گفتگو کا انعقاد ہفتے کے روز ہوا، جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ کا نوواں دن تھا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق، صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران ہمیشہ سے اپنے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کی ضمانت دینے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اعتماد سازی کے لئے تیار رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو حقوق بین الاقوامی قوانین کے تحت ممالک اور قوموں کو دیے گئے ہیں، انہیں دھمکیوں یا جنگ کے ذریعے نہیں چھینا جا سکتا۔
اس موقع پر ایرانی صدر نے اسرائیل کو مزید تباہ کن ردعمل کی دھمکی بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل کی جارحیت جاری رہی تو ایران کا جواب اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔
اسی گفتگو میں صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو کسی بھی صورت میں بند نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن جوہری سرگرمیوں میں اعتماد سازی کے لئے بات چیت اور تعاون کے لئے تیار ہیں، لیکن کسی بھی حالت میں اپنے جوہری پروگرام کو صفر پر لانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایرانی صدر کے یہ بیانات عالمی سطح پر بھی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کے اثرات خطے کی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
