تہران: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر فوجی کارروائی شروع کرنے کے بعد، ایران کی پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ امریکی نیوز چینل سی بی ایس نیوز کے مطابق، ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے ان اڈوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی نئی تصاویر سامنے آئی ہیں۔
نقصان کی تصاویر سامنے آ گئیں
سی بی ایس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے فعال فوجی اہلکاروں نے تصاویر فراہم کی ہیں، جن میں عمارتوں کے ملبے، جلے ہوئے گاڑیاں اور تباہ شدہ طیارے دیکھے جا سکتے ہیں۔ فوجی اہلکاروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فوج میں میڈیا پر عائد سخت پابندیوں کی وجہ سے یہ معلومات عام نہیں کی جا رہیں۔
فوجی اہلکاروں کا انکشاف
سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک فوجی اہلکار نے کہا، “ہمارے اڈوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، جس کی اطلاع امریکی عوام کو نہیں دی گئی۔ ہم یہاں آنکھیں بند کر کے وار سہہ رہے ہیں۔”
وائٹ ہاؤس کی حقیقت چھپانے کی کوشش
رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس ایرانی حملوں کے اثرات کو کم کر کے پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن دستاویزی ثبوت اس کے برعکس ہیں۔ ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی اڈوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خطے میں بڑے پیمانے پر تنازعے کا خطرہ ہے۔
- 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر کارروائی شروع کی
- ایران کی پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا
- سی بی ایس نیوز کو نقصان کی نئی تصاویر موصول ہوئیں
- فوجی اہلکاروں نے نقصان کی تصدیق کی، لیکن شناخت ظاہر نہیں کی
- وائٹ ہاؤس پر حقیقت چھپانے کے الزامات
