جنوا کے قریب خفیہ مذاکرات کا آغاز
ایران اور امراتیکہ نے منگل کے روز جنوا کے قریب جوہری تنازعے پر دوسرے دور کے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق، دونوں ممالک عمان کے توسط سے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات کولونی کمیون میں عمانی رہائش گاہ پر ہو رہے ہیں جہاں ڈپلومیٹک پولیس نے نجی راستہ بلاک کر رکھا ہے۔
ایرانی ترجمان کا “حقیقت پسندانہ” موقف کا دعویٰ
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا کہ پہلے دور کے مذاکرات کے بعد “ہم محتاط انداز میں یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ایرانی جوہری مسئلے پر امریکی موقف زیادہ حقیقت پسندانہ ہو گیا ہے”۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران “دھمکیوں کے آگے جھکنے” پر تیار نہیں ہے۔
ٹرمپ کی طرف سے دباؤ اور فوجی مظاہرے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ “بالواسطہ طور پر” مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو “اس کے نتائج پریشان کن” ہوں گے۔ اس دوران ایرانی انقلابی گارڈز نے بحیرہ عرب میں فوجی مشقیں کیں، جبکہ امریکی بحریہ کا ایک ایئرکرافٹ کیریئر ایران کے ساحل سے 700 کلومیٹر کے فاصلے پر تعینات ہے۔
جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ
مذاکرات کا مرکزی نقطہ ایران کا جوہری پروگرام ہے، جس کے بارے میں مغربی ممالک اور اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ ایران اس سے انکار کرتا ہے اور اپنے شہری جوہری پروگرام کو جاری رکھنے کے حق پر زور دیتا ہے۔ امریکہ ایران سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی پابندیاں لگائے اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت بند کرے۔
معاشی پابندیوں کا اثر
بین الاقوامی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے عوام کی قوت خرید میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث معاشی حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے ہائی انرچڈ یورینیم کے ذخیرے پر سمجھوتہ کر سکتا ہے اگر امریکہ پابندیاں اٹھا لے۔
مستقبل کے امکانات
دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے دائرہ کار پر اختلافات ہیں۔ ایران صرف جوہری معاملات پر بات چیت کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اضافی شرائط پر زور دے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ مذاکرات خطے کی سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔
