خلیج میں کشیدگی عروج پر
ایران نے جمعے کے روز واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی قسم کے حملے کو “ہمارے خلاف مکمل جنگ” سمجھا جائے گا۔ یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی بحریہ کا ایک ہوائی جہاز بردار بحری بیڑا اور دیگر جنگی اثاثے آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ پہنچنے والے ہیں۔
ایرانی فوج ‘بدترین صورت حال’ کے لیے تیار
ایک سینئر ایرانی اہلکار، جو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کر رہے تھے، نے کہا کہ “یہ فوجی تعمیر – ہمیں امید ہے کہ یہ حقیقی تصادم کے لیے نہیں ہے – لیکن ہماری فوج بدترین صورت حال کے لیے تیار ہے۔ اسی لیے ایران میں ہر چیز ہائی الرٹ پر ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “اس بار ہم کسی بھی حملے – محدود، غیر محدود، جراحی، حرکیاتی، جیسا بھی وہ اسے کہیں – کو اپنے خلاف مکمل جنگ سمجھیں گے، اور ہم اسے نمٹانے کے لیے ممکنہ سخت ترین طریقے سے جواب دیں گے۔”
ٹرمپ کا ‘آرمڈا’ بیان اور ایران کا ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ ریاستہائے متحدہ کا ایک ‘آرمڈا’ ایران کی طرف جا رہا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ انہیں اسے استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے تہران کو مظاہرین کو ہلاک کرنے یا اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کے خلاف انتباہات بھی دہرائے۔
ایرانی اہلکار نے جواب دیا، “اگر امریکی ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کریں گے، تو ہم جواب دیں گے۔” انہوں نے یہ واضح کرنے سے انکار کر دیا کہ ایرانی ردعمل کیسی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ماضی کے فوجی تعیناتیوں کا سلسلہ
امریکی فوج نے ماضی میں کشیدگی کے اوقات میں مشرق وسطیٰ میں وقتاً فوقتاً اضافی فوجی قوتیں بھیجی ہیں، جو اکثر دفاعی نوعیت کی ہوتی تھیں۔ تاہم، گزشتہ سال جون میں ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف امریکی حملوں سے قبل امریکی فوج نے ایک بڑی تعمیر کی تھی۔
ایرانی اہلکار نے اپنے بیان کا اختتام اس بات پر کیا کہ “ایک ایسا ملک جو امریکہ سے مسلسل فوجی خطرے کا شکار ہے، اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ اس کی دسترس میں موجود ہر چیز کو پسپا کرنے اور، اگر ممکن ہو تو، ایران پر حملہ کرنے کی جرات کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف توازن بحال کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔”

