اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کے روز اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ ترین پیش رفت پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا اور زیر التواء امور کے حل کے لیے مسلسل سفارتی رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔
مستقل امن کے لیے سفارتی کوششیں ناگزیر
اسحاق ڈار نے اس موقع پر واضح کیا کہ اختلافات کے حل اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے مستقل مکالمہ اور سفارت کاری ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ سفارتی کوششوں میں تعمیری انداز میں شامل رہیں اور خطے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطے کے ذرائع کو برقرار رکھیں۔
نائب وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے فعال اور مسلسل سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے زیر التواء مسائل کے حل کے لیے مکالمے کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کی پیش رفت کے انتظام اور مزید کشیدگی سے بچنے میں سفارتی ذرائع اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
- دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ صورتحال پر اپنے جائزوں کا تبادلہ کیا
- اسحاق ڈار نے تمام فریقین کو سفارتی عمل میں مثبت انداز میں شامل رہنے کی تلقین کی
- گفتگو کا مقصد اختلافات کے حل کے لیے تعمیری رویوں کی حوصلہ افزائی تھی
- یہ رابطہ خطے کے ممالک کے درمیان جاری سفارتی مصروفیات کے سلسلے کا حصہ ہے
خطے میں سفارتی رابطوں کا تسلسل
یہ ٹیلیفونک گفتگو خطے کے ممالک کے درمیان امن و استحکام سے متعلق امور پر جاری سفارتی مصروفیات کے پس منظر میں ہوئی۔ مبصرین کے مطابق اس رابطے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اس گفتگو نے پاکستانی اور ایرانی وزرائے خارجہ کو حالیہ علاقائی پیش رفت کے حوالے سے اپنے جائزے شیئر کرنے اور مجموعی صورتحال پر بات چیت کا موقع فراہم کیا۔
