مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جمعہ 23 اکتوبر سے جاری وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کے نتیجے میں تقریباً دو ہزار فلسطینیوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک حملے میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی حکام نے سخت اقدامات کا اعلان کیا تھا۔
اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق، فوج نے شہر کے متعدد محلوں میں رہائشیوں کو انخلا کے احکامات جاری کیے، جن پر عمل کرتے ہوئے ہزاروں افراد نے رات کے اندھیرے میں اپنے گھر خالی کیے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں صرف وہی سامان ساتھ لے جانے کی اجازت دی گئی جو اس وقت ان کے پاس موجود تھا۔
رہائشیوں کی مشکلات اور خدشات
ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ پانچ محلوں کو مکمل طور پر خالی کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب فوج کچھ دیر کے لیے گھر چھوڑنے کا کہتی تھی تو تلاشی کے بعد لوگ واپس آ جاتے تھے، لیکن اب مکمل محلوں کو خالی کرایا جا رہا ہے جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، کچھ علاقوں میں بلڈوزر سے عمارتوں کو مسمار کیا جا رہا ہے جبکہ سنسان گلیوں میں اسرائیلی فوجی گاڑیاں گشت کر رہی ہیں۔ ایک اور رہائشی نے بتایا کہ علاقے میں تقریباً 50 فوجی اور متعدد فوجی جیپیں موجود تھیں اور انہیں فوری طور پر نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔
فوجی کارروائی کی وجوہات اور اسرائیلی موقف
یہ آپریشن جمعہ کے روز اسرائیلی چیک پوائنٹ کے قریب دو فلسطینی حملہ آوروں کی جانب سے کیے گئے حملے کے ردعمل میں شروع کیا گیا، جس میں دو اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ رہائشیوں کو نکالیں گے، گھر گھر جا کر تلاشی لیں گے، ہتھیار ضبط کریں گے اور مبینہ دہشت گردانہ ڈھانچے کو تباہ کریں گے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ ان دو حملہ آوروں کے آبائی محلے میں تفصیلی، ہدف شدہ اور گہری تلاشی کر رہی ہے۔ فوجی حکام کے مطابق یہ آپریشن مزید کئی دن جاری رہ سکتا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کی مذمت اور بین الاقوامی مطالبہ
دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی نے ہفتہ کے روز اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا کہ آبادی کی نقل مکانی اور تباہی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر فوری بین الاقوامی کارروائی کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فلسطینیوں کی نقل مکانی کے واقعات گزشتہ برسوں کے دوران تواتر سے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم الخلیل میں اس پیمانے پر انخلا کو حالیہ برسوں کی سب سے بڑی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
