خان یونس اور غزہ شہر میں ہونے والے حملوں میں تین بچے بھی ہلاک
غزہ پٹی میں بدھ کی صبح اسرائیلی فضائی حملوں میں 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ فلسطینی سول ڈیفنس کے مطابق، شمالی اور جنوبی غزہ کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں میں 23 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ: افسر پر فائرنگ کے جواب میں “درست نشانہ بازی”
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے “درست نشانہ بازی” کے بعد حملے کیے، جب “دہشت گردوں” نے فوجیوں پر فائرنگ کی جس سے ایک افسر شدید زخمی ہو گیا۔ فوج کے مطابق یہ واقعہ غزہ پٹی کے شمالی حصے میں “پیلا لائن” کے قریب پیش آیا، جو اسرائیلی فوج کے انخلا کی نشاندہی کرتی ہے۔
جنگ بندی کے باوجود تشدد میں اضافہ
10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے، جس کی اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ غزہ کی صحت کی وزارت کے مطابق، جنگ بندی کے آغاز سے اب تک کم از کم 529 فلسطینی اسرائیلی فائرنگ اور فضائی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
رفاح سرحدی گذرگاہ کی جزوی بحالی
یہ حملے اس وقت ہوئے ہیں جب رفاح سرحدی گذرگاہ کو مصر کے ساتھ جزوی طور پر دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جس کے ذریعے چند درجن فلسطینیوں کو دونوں اطراف سفر کی اجازت دی گئی ہے۔ گذرگاہ مئی 2024 سے اسرائیلی فوج کی جانب سے بند تھی، اور اس کے کھلنے سے غزہ کے دو ملین سے زائد باشندوں کو انسانیت سوز حالات سے کچھ ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔
بین الاقوامی ردعمل اور مستقبل کے خدشات
مصر اور قطر، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالث ہیں، نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی “مسلسل خلاف ورزیوں” کی مذمت کی ہے اور تمام فریقوں سے “انتہائی احتیاط” برتنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے رفاح سرحدی گذرگاہ کی مکمل بحالی سے قبل صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے پر زور دیا ہے۔
انسانی بحران کی سنگینی
غزہ میں انسانی بحران انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں تقریباً تمام رہائشیوں کو جنگ کے دو سال سے زائد عرصے میں کم از کم ایک بار نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے۔ لاکھوں افراد اب بھی خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں، جنہیں بنیادی سہولیات تک محدود رسائی حاصل ہے۔

