لیبیا میں سیاسی کشمکش میں ایک اور خونریز موڑ
سابق لیبیائی آمر معمر قذافی کے بیٹے اور بین الاقوامی کریمنل کورٹ کے مطلوب فرد سیف الاسلام قذافی کو مغربی لیبیا میں ان کے گھر پر مسلح کمانڈو نے قتل کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے ملک میں سیاسی عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتا ہے جو 2011 کے انقلاب کے بعد سے تقسیم کا شکار ہے۔
کیسے ہوا قتل؟
ان کے فرانسیسی وکیل مارسل سییکالڈی کے مطابق، منگل کے روز دوپہر 2 بجے زنٹن میں ان کے گھر پر چار افراد کے ایک مسلح گروپ نے حملہ کیا۔ سیف الاسلام قذافی کی عمر 53 سال تھی۔ ان کے مشیر عبداللہ عثمان عبدالرحیم نے بتایا کہ حملہ آوروں نے نگرانی کیمرے بے کار کرنے کے بعد رہائش گاہ پر دھاوا بول کر انہیں قتل کیا۔
سیاسی جانشین سے مطلوب مجرم تک کا سفر
سیف الاسلام قذافی کو طویل عرصے تک اپنے والد کا ممکنہ جانشین سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے خود کو ایک معتدل اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن 2011 میں بغاوت کے آغاز میں ان کے “خون کے دریا بہا دوں گا” کے بیانات نے ان کی یہ ساکھ تباہ کر دی۔
- بین الاقوامی کریمنل کورٹ ان پر انسانییت کے خلاف جرائم کے الزام میں وارنٹ جاری کر چکی ہے۔
- انہیں 2011 میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2015 میں ایک متنازعہ مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے بعد انہیں عام معافی دے دی گئی تھی۔
- 2021 میں، انہوں نے صدارتی انتخابات میں امیدوار کی حیثیت سے حصہ لینے کی کوشش کی، جو پرانے نظام کے حامیوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش تھی، لیکن وہ انتخابات منعقد نہیں ہو سکے۔
سیاسی پیچیدگیاں اور شہادت کا درجہ
ماہرین کا خیال ہے کہ سیف الاسلام قذافی کا قتل لیبیا کی پہلے سے ہی پیچیدہ سیاسی صورتحال میں ایک نیا بحران پیدا کر سکتا ہے۔ ماہر اماد بادی کے مطابق، یہ واقعہ انہیں آبادی کے ایک بڑے حصے کی نظر میں “شہید” بنا سکتا ہے۔ ان کی امیدواری صدارتی انتخابات میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی تھی، لہذا ان کا خاتمہ سیاسی توازن کو بدل سکتا ہے۔
متحرک زندگی اور حفاظتی انتباہ
ان کے وکیل کے مطابق، سیف الاسلام قذافی اکثر اپنی رہائش گاہ تبدیل کرتے تھے اور ان کی حفاظت کے حوالے سے پہلے ہی خدشات موجود تھے۔ انہیں اطلاع دی گئی تھی کہ قبیلے کے سربراہ نے اضافی سیکورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ حملہ آوروں کی شناخت ابھی تک واضح نہیں ہے۔
لیبیا کی موجودہ تقسیم
معمر قذافی کے زوال کے بعد سے، لیبیا دو حریف حکومتوں میں بٹا ہوا ہے: اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ طرابلس میں قائم حکومت اور مشرقی شہر بنغازی میں فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی زیر اثر حکومت۔ یہ قتل اس تقسیم اور عدم استحکام کے تناظر میں ہوا ہے۔
ردعمل اور مذمت
سابق حکومت کے ترجمان موسیٰ ابراہیم نے اس قتل کو “غدارانہ فعل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے دو دن قبل بات چیت کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیف الاسلام ایک متحد، خودمختار اور محفوظ لیبیا چاہتے تھے اور ان کا قتل “امید اور مستقبل کا قتل” ہے۔
سیف الاسلام قذافی کا یہ قتل لیبیا کی خانہ جنگی اور سیاسی انتشار کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات خطے کی سیاست پر مرتب ہوں گے۔

