geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
February 11, 2026
  • Geo Urdu France
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • English
  • French
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    • A new geopolitical chessboardچین کے عروج سے بدلتی عالمی طاقت کی کشمکش
    • The common fruit juice that could control blood pressure and calm inflammationنارنجی کا جوس: بلڈ پریشر کنٹرول اور سوزش میں کمی کا قدرتی حل
    صحت و تندرستی
    • France Proposes Universal Child Benefit to Combat Record Low Birth Rateفرانس میں پیدائش کی شرح میں تاریخی کمی، پارلیمانی رپورٹ میں “انقلابی” خاندانی پالیسی کی تجاویز
    • Pakistan Reports Second Mpox Death, Signals Local Transmissionپاکستان میں مپاکس سے دوسری ہلاکت، مریض ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس کا شکار تھا
    • Immunotherapy: A Rising Star in Cancer and Infectious Disease Fightامیونوتھراپی: کینسر اور انفیکشس امراض کے خلاف ایک انقلابی علاج
    دلچسپ اور عجیب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    • Eco-Friendly Coffee Alternatives Gain Popularity in Franceماحول دوست متبادل: کیفے کی جگہ چکوری، لیوپن اور جو کا استعمال بڑھ رہا ہے
    • Error establishing a database connectionلاہور میں 25 سالہ پابندی کے بعد تین روزہ بسنت تیوہار کی تیاریاں عروج پر
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Gmail Finally Allows Users to Change Their Email Addressاب آپ اپنا جی میل ایڈریس تبدیل کر سکتے ہیں، گوگل نے نئی سہولت متعارف کرا دی
    • Study: AI Like ChatGPT Falls Short in Medical Diagnosisطبی تشخیص: ’نیچر میڈیسن‘ کی تحقیق کے مطابق چاٹ جی پی ٹی اور دیگر اے آئی ماڈلز کی کارکردگی مایوس کن
    • Pakistan Nears Historic Space Mission with Chinese Trainingپاکستانی خلابازوں کا چین کے خلائی اسٹیشن مشن کے لیے انتخاب، تاریخی پیش رفت
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری

عدل بیتی کی تقریب رونمائی

December 30, 2021 0 1 min read
BOOK LAUNCHING of ADIL BEETI
Share this:

BOOK LAUNCHING of ADIL BEETI

تحریر: طارق حسین بٹ شان

٢٢دسمبر ٢٠٢١ کا دن تاریخِ سیالکوٹ میں اس پہلو سے ہمیشہ یادگار رہے گا کہ اس دن عابد حسین قریشی (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج) کی پہلی تصنیف (عدل بیتی) کی تقریبِ رونمائی سجائی گئی تھی جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل منفرد تقر یب تھی۔ ایسی شاندار،دلکش، خوبصورت اور دلفریب تقریب شائد اس سے قبل منعقد نہیں ہو سکی تھی۔عوام کا جوش و خروش اور وارفتگی اس تقریب کی روح تھی۔ایک جمِ غفیر تھا جو عدل بیتی کی وساطت سے عابد حسین قریشی کے ساتھ اپنی دلی یگانگت اور محبت کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ہال کچھا کچھ بھرا ہوا تھا جبکہ سامعین کی بے قراریاں حدود فراموش ہو رہی تھیں۔یہ غیر معمولی کیفیت تھی جو اس تقریب میں دیکھنے کو ملی تھی۔ہر شعبہ زندگی کے لوگ اس خو بصورت تقریب کا حسن تھے۔وہ اس تقریب کا حصہ بننے پر بڑے نازاں و فرحاں تھے جبکہ ان کی محبت کناروں سے امڈتی دکھائی دے رہی تھی۔وہ اپنے اپنے رنگ میں مصنف کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے تھے جس سے تقریب کا حسن اور بھی دوبالا ہو گیا تھا۔

مقررین مانندِ عندلیبِ وفا مصنف کے ساتھ گزارے گئے لمحوں سے نقاب الٹ کر سامعین کو حیران کر رہے تھے۔ان کا ایک ایک ایک لفظ اپنے دامن میں محبت کی لازوال داستان سمیٹے ہوئے تھا اور سامعین محبت سے بنائی گئی سحر انگیزتصویر کی دلکشی میں مکمل طور پر مستغرق تھے۔ایک طرف سیالکوٹ کے میاں محمد آصف(ایڈیشنل آئی جی ) تھے جو طویل رفاقت کا احوال سنا رہے تھے اور مصنف کے ساتھ اپنی دوستی اور رفاقت پر فخر کر رہے تھے۔ان کی تقریر انتہائی بر جستہ روح پرور اور دلکشی کی حامل تھی جبکہ دوسری طرف فیصل آباد سے چنگیز خان کاکڑ تھے جو اپنی سچی دوستی اور اپنی وفائوں پر نازاں تھے۔ان کی جرات مندی اور دلیری سے سنائی گئی داستان اتنی پر کشش اور پر کیف تھی کہ ہا ل میں بیٹھا ہوا ہر ایک فرد اس کے سحر میں ڈوبتا چلا گیا ۔ ارشد محمود ( بھگو) بٹ وکالت کے سنہری دور کو یاد کر رہے تھے اور اپنی روائتی شناسائی کے گن گا رہے تھے جبکہ عبدالشکور مرزا بچپن کی معصوم ادائوں کی چاشنی سے سامعین کو اپنا گرویدہ بنا رہے تھے ۔وہ مصنف کے والدِ محترم (صابر حسین قریشی ) کے ساتھ اظہارِ عقیدت بھی کر رہے تھے اور ان کی عظمت کو سلام بھی پیش کر رہے تھے جس پر عوام ان کی دلی عقیدت پر دل کھول کر داد دے رہے تھے ۔چٹی شیخاں کے لوگ تو پھولے نہیں سما رہے تھے کہ عابد حسین قریشی کی کتاب عدل بیتی کی تقریبِ رونمائی نے رنگ و نور کی ایسی دنیا آباد کر دی تھی جو انتہائی دلکشی کی حامل تھی اور ان کے فخر و ناز اور تشخص کو نئی رفعتوں سے ہمکنار کر رہی تھی۔ ،۔

عدلیہ کے معزز اور پر قار ججز کی ایک گلیکسی تھی جو اس تقریب کی شان تھی۔ عدنان صفدر،سید امجد علی ،آصف بھلی،سردار طاہر صابر ،سید محمود قادر شاہ عدالتوں میں روا رکھی گئی نا انصافی پر اظہارِ خیال کر رہے تھے ۔وہ عابد حسین قریشی کے ساتھ روا رکھے گے سلوک پر سراپا احتجاج تھے اور اسے میرٹ کا قتل قرار دے رہے تھے۔مقررین کے الفاظ،ان کا اندازِ بیاں اور لفظوں کا چنائو سامعین کے دلوں پر شبنم کی طراوت اور گلاب کی پتیوں کی طرح لطا فت کا مدو جزر پیدا کر رہاتھا۔ان کا ایک ایک لفظ سامعین کیلئے راحتِ جاں ثابت ہو رہا تھاجس پر وہ دل کھول کر دادسے نواز رہے تھے ۔ہال میں کوئی فرد ایسا نہیں تھا جو اس تقریب کی جاذبیت میں کھویا ہوا نہ ہو۔تالیوں کی گونج اور لطافت کی کرنیں ہر سو اپنا جلوہ بکھیر رہی تھیں اور عابد حسین قریشی جلووں کی دنیا سمیٹتے چلے جارہے تھے ۔مقررین کی داستانِ وفا کی حدت سامعین کے دلوں کو مزید گرما رہی تھی اور وہ مزید جوش و جذبہ سے دادا تحسین کے ڈونگرے برسا رہے تھے ۔ وفائیں ہمیشہ دلپذیر ہوتی ہیں اور قلبِ انسانی میں حلا وت اور گدازپیدا کرتی ہیںاور یہ سامعین کی خوش بختی تھی کہ محبتوں کا علمبردار عابد حسین قریشی آج کی تقریب کا دولہا تھا۔

صدارتی کرسی پر جلوہ افروز محترمہ حزیلہ اسلم (ڈسٹرک ایند سیشن جج سیالکوٹ) کے چہرے پر خوشی کی کرنیں قوس و قزاح کی مانند بکھری ہوئی تھیں۔وہ نازاں تھیں کہ وہ ایک ایسی تقریب کی صدارت کر رہی ہیں جو سچے جذبوں کی ترجمان ہے ۔ ایک بڑے باپ کی ہونہار بیٹی ہونے کے ناطے وہ اس تقریب کو اپنے دلی جذبات کا ترجمان قرار دے رہی تھیں۔وہ عابد حسین قریشی کی ایمانداری ، جراتمندی،بہادری، اور جی داری پر رطب السان تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ عدل بیتی اتنی دلچسپ کتاب ہے کہ میرے لئے اسے ادھورا پڑھنا ناممکن تھا۔میں نے ساری کتاب انتہائی دلچسپی سے پڑھی کیونکہ عابد حسین قریشی نے جس روانی اورتسلسل سے لفظوں کی مالا پروئی ہے اس کے پیشِ نظراسے مکمل پڑھے بغیر چھوڑا نہیں جا سکتا تھا۔یہ کتاب آنے والے وکلاء کیلئے مینارہ نور کا کام دے گی اور ان کی راہنمائی ایک ایسی منزل کی جانب کرے گی جو عدل و صداقت اور انصاف کی راہ ہے۔یہ کتاب بار اور بنچ کے درمیان توازن ِ تعلقات کو قائم رکھنے کا ایسا نسخہ ہے جس سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ نوجوان ججز اگر عابد حسین قریشی کی قائم کردہ روائت پر چلنے کی کوشش کریں تو بنچ اور بار میں مثالی تعلقات قائم ہو سکتے ہیں۔ڈی سی سیالکوٹ محترم طاہر فاروق کی موجودگی نے تقریب کے وقارکو مزید پر وقار بنا دیاتھا۔،۔

عدل بیتی کے مصنف عابدحسین قریشی نے عدلیہ کے اندر پلنے والی نا انصافیوں پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔وہ میرٹ کے قتل پر سرپا احتجاج بنے ہو ئے تھے۔ان کا استدلال تھا کہ اگر عدلیہ میں ہی میرٹ نہیں ہو گا تو پھر عدلیہ کس طرح عوام کو انصاف فراہم کر پائے گی؟اپنے تحفظات کے ساتھ ساتھ وہ بہترین انسانوں کے اوصاف بھی بیان کر رہے تھے ۔اعتدال پسندی،صبرو برداشت اور دوسروں کو برابر کا انسان سمجھنا ان کا فلسفہِ زندگی ہے جسے انھوں نے کھل کر بیان کیا۔ بنچ اور بار کے درمیان مثالی تعلقات قائم کرنا ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے ۔اسی لئے انھیں مردِ بحران بھی کہا جاتا تھا ۔ اپنے دوستوں اور محسنوں کا ذکر کرتے ہوئے مصنف کی آنکھیں چھلک پڑیں جو اس بات کی غمازتھیں کہ مصنف کے سینے میں ایک حساس دل دھڑکتا ہے ۔وہ عوام کی بے پناہ محبت پر ان کے مشکور تھے۔ایسی شاندار تقریب کا انعقاد محض اس وجہ سے ممکن ہو سکا کہ مصنف انسانیت سے محبت پر یقین رکھتے ہیں۔وہ (مسکرائو ثواب ہو تا ہے۔،۔ ختم دل کا عذاب ہو تا ہے ) کے ترجمان ہیں۔

خالد حسین قریشی،عدنان صفدر،زین عابد قریشی اور طارق حسین بٹ شان کی کاوشیں اس تقریب کی کامیابی کی کہانی بیان کر رہی تھیں ۔ عدنان صفدر زیادہ دا دو تحسین کے حقدار ہیں کہ انھوں نے اس تقریب کو سجانے میں زیادہ سعی کی۔ نظامت کے فرائض معروف شاعر، ادیب اور کالم نگار طارق حسین بٹ شان نے سر انجام دئے اور اپنی ادب نوازی اور شاعری سے مرصع انداز ِ نظامت سے سامعین کے دلوں میں جذب و انہماک کی ایسی کیفیت کو جنم دیا جس نے اس تقریب کی دلکشی میں مزید چار چاند لگا دئے ۔ ایسی یادگار تقاریب کبھی کبھار انعقاد پذیرہو تی ہیں۔انھوں نے عدل و انصاف کی ترویج ، معاشرے کی نئی صورت گری اور مقررین کی ساری تقا یر اور کیفیت کو دو اشعار میں سموکر رکھ دیا۔
خوشبوئوں کا اک نگر آباد ہو نا چائیے۔،۔اس نظامِ زر کو اب برباد ہو نا چائیے۔
ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ہم۔،۔ جگنوئوں کو راستہ تو معلام ہو نا چائیے۔
Tariq Hussain Butt

تحریر: طارق حسین بٹ شان
(چیرمین ۔ مجلسِ قلندرانِ اقبال۔)

Share this:
Wind Turbine Wall
Previous Post ہوا کی طاقت سے 10,000 یونٹ سالانہ بجلی بنانے والی دیوار
Next Post بوڑھا ملازم
Old Employee

Related Posts

Shahbaz Sharif

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو رہا کر دیا گیا

April 23, 2021
Naphtali Bennett

ایران نے جوہری پروگرام کی’سرخ لکیریں‘عبور کر لیں: اسرائیلی وزیراعظم بینیٹ

September 28, 2021
Roger Federer

جنیوا اوپن میں راجر فیڈرر کو اپ سیٹ شکست

May 20, 2021
Mahmoud Abbas

فلسطینی صدر محمود عباس کی رام اللہ میں اسرائیلی وزیر دفاع سے ملاقات

August 30, 2021

Popular Posts

1 Vladimir Putin

امریکی میزائل تجربے کا جواب دیا جائے، پوٹن کی ہدایات

2 Imad Wasim

قومی کرکٹر عماد وسیم بھی رشتہ ازدواج میں منسلک

3 Meeting

انجینئر افتخار چودھری نے ریاٹرڈ جرنیل ڈاکٹر محمد مصطفی الجہنی سے ملاقات کی

4 Shah Mahmood Qureshi - António Guterres

شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان رابطہ طے پا گیا

5 Khamisani Socail Welfare Trust

محمد سلیم خمیسانی کا سیفی ویلفیئر سوسائٹی کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد

6 Indian Army in Kashmir

کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باوجود ہزاروں کشمیریوں کا بھارت کیخلاف مظاہرہ

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.