کراچی میں پولیس نے ایک 10 سالہ بچے کو تاوان کے لیے اغوا کرنے کے الزام میں 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی منگل کو سعود آباد کے علاقے میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔
پڑوسی نکلا واردات کا ماسٹر مائنڈ
پولیس حکام نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے ملزمان میں معاذ علی، محمد متال، راشد علی سید اور عافیہ المعروف شاہدہ شامل ہیں۔ انکشاف کیا گیا کہ محمد متال، مقتول بچے خضر کا پڑوسی ہے اور اس نے ہی اغوا کی اس پوری سازش کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ ملزمان نے 9 جولائی کو بچے کو اغوا کیا تھا جسے محض 12 گھنٹوں کے اندر فالکن کالونی سے بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا تھا۔
واقعے کی تفصیلات اور پولیس کارروائی
پولیس کے مطابق، ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی ایک گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔ گرفتار کیے گئے تمام چاروں افراد کو تاوان کے لیے اغوا کے مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ آیا ان کا تعلق کسی بڑے اغوا برائے تاوان نیٹ ورک سے تو نہیں ہے۔
مقدمے کی مزید تفتیش جاری
پولیس ذرائع کے مطابق اس وقت تمام ملزمان کو حراست میں لے کر ان سے مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ تفتیش کاروں کو توقع ہے کہ اس دوران اغوا کی اس واردات کے دیگر پہلوؤں سے متعلق اہم انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔
