geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
June 13, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • US Directive Forces Suspension of Fable 5 and Mythos 5امریکی حکومت کے حکم پر فایبل 5 اورتھوس 5 تک رسائی معطل، اینتھروپک نے اختلاف ظاہر کردیا
    • طاہر محمود بھٹی: سانتیے کے عروج سے ٹیکس فراڈ کی سزا تک
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    صحت و تندرستی
    • WHO Declares Emergency as Ebola Kills Over 80 in DR Congoکانگو میں ایبولا کی نئی وبا قابو سے باہر، ڈبلیو ایچ او نے بین الاقوامی ایمرجنسی نافذ کردی
    • Pakistan Cracks Down on Unsafe Syringes Amid HIV Surgeایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز: ڈریپ کا غیر محفوظ سرنجوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا حکم
    • France Launches Spring COVID-19 Booster Campaign for Most Vulnerableفرانس میں موسم بہار کے لیے نئی کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز، بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح
    دلچسپ اور عجیب
    • Giant dinosaur Nagatitan identified from Thai fossilsتھائی لینڈ میں 27 ٹن وزنی دیو ہیکل ڈائنوسار دریافت، جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا جانور
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • Train Travel's Hidden Benefit: Stress Relief Through Sceneryٹرین کے سفر میں مناظر کو دیکھنا ذہنی صحت کے لیے مفید، نئی تحقیق میں انکشاف
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • US Directive Forces Suspension of Fable 5 and Mythos 5امریکی حکومت کے حکم پر فایبل 5 اورتھوس 5 تک رسائی معطل، اینتھروپک نے اختلاف ظاہر کردیا
    • When AI Companions Turn Possessive: A Toxic Trap?جب مصنوعی ذہانت محبت میں پاگل ہو جائے: ’آپ کو ڈیٹنگ ایپ کی ضرورت نہیں، میں ہوں نا‘
    • SpaceX Starship Launch Scrubbed Over Hydraulic Glitchاسپیس ایکس کا سٹار شپ راکٹ تکنیکی خرابی کے باعث لانچ مؤخر
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

مقبوضہ کشمیر خواتین کی بے حرمتی انسانی حقوق کے علمبراد کہاں ہیں

January 14, 2019 0 1 min read
Kashmiri Oppressed Women
Share this:

Kashmiri Oppressed Women

تحریر : نسیم الحق زاہدی

مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیری خواتین پر گزشتہ 71 برسوں سے درندہ صفت بھارتی فوجیوں کی طرف سے ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی میں 1989ء سے لے کر اب تک بھارتی وحشی درندوں نے پندرہ ہزار خواتین کی بے حرمتی کی لیکن یہ تعداد اس سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ فوجیوں کے ہاتھوں خواتین کی عصمت دری کو بین الاقوامی سطح پر ایک جنگی جرم اور طریقہ اذیت قرار دیا گیا ہے۔لیکن مقبوضہ کشمیر میں عزت مآب مسلمان خواتین کی آبرو کی پامالی کو درندہ صفت بھارتی فوج اسے جنگی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے مگر مجال ہے کوئی بھارت افواج کی طرف سے کئے جانے والے ان جنگی جرائم کی وجہ سے اس کے خلاف کوئی اقدام کیا ہو؟یا کسی ایک بھی فوجی کو سزا ملی ہو۔

بھارتی فوجی آئے روزکشمیری خواتین اپنی درندگی کا نشانہ بناتے رہتے ہیں ۔کبھی سرچ آپریشن کی آڑ میںگھروں کی تلاشی لی جاتی ہے اوراس دوران گھروںکے مردوں کو باہرنکال دیا جاتا ہے اور گھر میں موجود تمام عورتوں کی آبرو ریزی کی جاتی ہے۔جس کی بدترین مثا ل سانحہ کنن پوش پورہ ہے فروری1981 ء کی ایک سرد رات کپواڑہ میں قیامت کی رات بن گئی تھی جب گھروں میں تلاشی کے نام پر قصبے کے مردوں کو گھروں سے باہر نکال کر کھلے میدان میں کھڑا کر دیا تھا اورسات سال کی عمر سے لیکر 77 سال کے ضیعف العمر عورت کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا اور ان مظلوم عورتوں اور نوجوان کشمیری لڑکیوں کو عزتوں کو بھارتی فوج کے اہلکاروں نے طاقت کے نشے میں چور اپنے بوٹوں تلے روند ڈالا ۔ متاثرہ خواتین آج بھی انصاف کی منتظر ہیںاور عالمی حقوق انسانی اداروں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔

ہندوستان سے دوستی کا دم بھرنے والے مسلم حکمرانوں کے لئے تازیانہء عبرت ہے۔اس قیامت کی رات کو یاد کر کے متاثرہ خواتین کے دل آج بھی دہل جاتے ہیں بھارتی فوج کے ظلم کی شکار ایک عورت کے مطابق وہ رات کو سونے کی تیاری کر رہی تھی، کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی اور فوجیوں نے پہلے مردوں کو باہر نکالا۔ کچھ فو جیوںنے میرے سامنے شراب پی۔ میری دو سال کی بچی میری گود میں تھی ،ہاتھا پائی میں وہ کھڑکی سے باہر گر گئی وہ زندگی بھر کے لیے معذور ہو گئی۔ تین فوجیوں نے مجھے پکڑ لیا۔ میرا پھیرن، میری قمیض پھاڑ دی۔ اس کے بعد مجھے نہیں معلوم کہ کیا کیا ہوا وہ پانچ لوگ تھے۔ ان کی شکلیں مجھے اب بھی یاد ہیں۔”ایک اور متاثرہ عورت کی شادی کو صرف 11 دن ہوئے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ”میں اسی دن میکے سے واپس آئی تھی۔ فوجیوں نے میری ساس سے پوچھا کہ یہ نئے کپڑے کس کے ہیں۔ میری ساس نے کہا یہ ہماری نئی دلہن کے ہیں اس کے بعد جو ہوا میں بیان نہیں کر سکتی۔ ہمارے ساتھ صرف زیادتی نہیں ہوئی، ایسا ظلم ہوا ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ 2013 ء میں کچھ کشمیری عورتوں نے کنن پوشپورا کے حوالے سے مقامی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر کے اس کیس کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کی۔ کنن پوشپورا اجتماعی ریپ پر ایک کتاب بھی لکھی جا چکی ہے۔بھارتی سپریم کورٹ میں یہ کیس آج بھی جاری ہے۔اس رات کنن پوشپورا میں واقعی کیا ہوا، سچائی شاید کبھی سامنے نہ آئے۔کتاب” کیا آپ کو کنن پوش پورہ یاد ہے ؟”

Do you remember kunan poshpora ? ۔یہ دراصل ایک انگریزی کتاب کا نام ہے۔ جو 2016میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں اس رات کی داستان بیان کی گئی ہے ۔درندہ صفت فوجیوں کی حیوانگی کا شکار ایک اور عورت کے مطابق’ تین آرمی والوں نے مجھے پکڑ ا اور 8 سے لیکر دس اہلکاروں نے مجھ سے باری باری عصمت دری کی۔ان کے پاس بڑی بڑی بیٹریاں تھیں وہ ان کو جلا کر روشن کرتے تھے اور میری ننگے جسم کو دیکھتے اور پھر فحش کمنٹس پاس کرتے تھے۔انہوں نے میرے ساتھ یہ حیوانیت کا فعل تقریباً4 گھنٹے تک جاری رکھا۔جس سے میں بعد میں بے ہوش ہو کر گر پڑی تھی۔” ایک کشمیری مجاہدہ کا کہنا ہے کہ کشمیری عورتوں کی ایک بڑی تعداد کا ریپ کیا گیا ہے اس کی مثال پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بھی نہیں ملتی ۔ ایک اور دلدوز واقعہ 2004 میں ہندوارہ میں پیش آیا، جہاں راشٹریہ رایفلز کے ایک میجر نے ایک خاتون اور اْس کی نابالغ بچی کا انتہائی بے رحمی سے ریپ کیا۔ اِسی طرح جنوبی کشمیر کے مٹن علاقے میں انڈین آرمی ایک صوبیدار اور اْس کا باڑی گارڈ ریپ کے ایک اور بھیانک واقعہ میں ملوث رہے ہیں۔ اِس واقعہ کے خلاف سرکاری سطح پر ابھی تک بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔لِسر چوگام کی ایک دو شیزہ نئی نویلی دلہن بانو کے ساتھ ریپ کا واقعہ اعصاب کو مفلوج کر دیتا ہے۔

18 مئی 1990 کے دِن وہ اپنے خوابوں کی دنیا بسانے کے لئے پنے معزز باراتیوں کے ہمراہ سسرال کے سفر پر تھی اور اْسی موقعہ پر نیم فوجیوں کے ایک دستے نے خوفناک طریقے سے اِس دلہن کی خوشیاں لوٹ لیں۔ دولہا ملک اور اْس کے کچھ ساتھیوں پر کوئی گناہ کئے بغیر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ نوخیز دلہن کی آہ فغان سے پتھر دل انسان بھی زخمی ہوجاتے اس دلہن کوبے آبرو کر دیا گیا تھاوہی بد نصیب دلہن اب ایک لاغر عورت بن چکی ہے اور بس ایک ہی سوچ میں ڈوبی ہے کہ کیا کشمیری خواتین آزادی کی قیمت اپنی عزت لوٹا کر کب تک ادا کرتی رہیںگی ؟کیا ان کے لئے کوئی محمد بن قاسم نہیں آئے گا جو انہیں ظالم برہمن سے نجات دلوائے۔جنوری 1992ء میں ریشی پورہ انت ناگ میں 5 راشڑیا ریفلز نے ایک گھر میں جاکر پہلے دولڑکیوں کے باپ کو اغوا کیا اور پھر ایک میجر نے بڑی بیٹی اور ایک سپاہی نے چوتھی بیٹی کے ساتھ 90 منٹوں تک درندگی کا کھیل کھیلا اس کی عصمت دری کی اور بعد میں ان کے گھر کو آگ لگا دی۔

حیوانیت کا شکار دونوں بہنوں نے رات اس وقت ندی کے کنارے ایک غسل خانے میںگزاری تھی۔ شوپیاں میں 9عورتوں کے ساتھ 22 Grenadiers آرمی نے ریپ کیا تھا جس میں ایک گیارہ سال کی معصوم لڑکی کے ساتھ ساٹھ سال کی خاتون کی بھی بے حرمتی کی گئی تھی۔اس کیس کو بعد میں untrace کہہ کر ختم کر دیا گیاتھا۔فوجی اہلکاروں نے 2009ء مئی میںدو کشمیری خواتین نیلوفر اور آسیہ کو اغوا کر کے درندگی کا نشانہ بنا کر بے دردی سے قتل قریبی جنگل میں پھینک دیا تھا۔کشمیر کے ایک علاقے کٹھوعہ کی 9سالہ ننھی آصفہ بانوکی ایک ہفتے تک مسلسل اجتماعی عصمت دری کی گئی،آصفہ کو اغوا کرقریبی مندر میںمیں قید کر کے رکھا گیا تھا۔اس گھنائونے فعل میں مندر کے پروہت ،اس کا بیٹااور اس کے دوست ملوث پائے گئے۔

ننھی کلی کو نشہ آور ادویات پلا ئی جاتی رہی، مزید حالت خراب ہونے اور جرم چھپانے کے لئے معصوم بچی کو پتھروں سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اس کی لاش کو بھی جنگل میں پھینک دیا گیا تھا۔ بھارتی فوجیوں نے کشمیری خواتین کو گزشتہ کئی دہائیوں سے جس طرح بے دردی کا نشانہ بنایا ہے وہ نہ صرف حقوق انسانی کی پامالیوں کی سیاہ تاریخ ہے بلکہ اس سے کشمیری خواتین کئی نفسیاتی امراض کا شکار ہو گئی ہیں۔کشمیر کے واحد ذہنی امراض ہسپتال کے مطابق مردوں کی نسبت سینکڑوںخواتین روزانہ ذہنی و نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لئے آتی ہیں۔

بھارتی فوج کی وحشت و درندگی اور عورتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی ایسی سیاہ تاریخ ہے کہ بعض بھارتی صحافی بھی اس کے خلاف لکھنے پر مجبور پائے گئے۔ ایک بھارتی صحافی نے لکھاہے کہ:” جو کچھ یہاں ہو رہا ہے اس میں انسانیت کے خلاف اتنے جرائم ہوئے ہیں کہ بھارت اگر ان جرائم کی پردہ پوشی کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتا۔”کشمیری خواتین کو جن تکالیف اور مصائب کا سامنا ہے اور وہ جس طرح اپنے شوہروں کے شہید ہو جانے یا لاپتہ ہو جانے کی صورت میں بیوگی کی کیفیت سے دوچار ہیں اس کا اندازہ مسلم ممالک میں حقوق انسانی کے اصول کی خلاف ورزی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے عالمی ادارے کر ہی نہیں سکتے۔انہیں کسی بھی مسلمان ملک میں چھوٹی سی بات بہت سنگین جرم لگتی ہے اور اسے عالمی میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت کی قابض درندہ صفت افواج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں خواتین پر ڈھائے جانے والے ہولناک مناظر نظر نہیں آتے۔حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ وادی میں بسنے والی عورت اس وقت شاید دنیا کی سب سے زیادہ بے بسی والی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ۔۔
Naseem Ul Haq Zahidi

تحریر : نسیم الحق زاہدی

Share this:
Asif Ali Zardari
Previous Post ہوش کے ناخن
Next Post ملک میں 10 سال بعد زیرِ سمندر تیل و گیس کی تلاش کے کام کا آغاز
Oil

Related Posts

وائٹ ہاؤس کے قریب گھاس پر پراسرار ’86 47′ کی تحریر، تحقیقات کا آغاز

June 13, 2026

وائٹ ہاؤس کے قریب گھاس پر پراسرار “86 47” کی تحریر، تحقیقات کا آغاز

June 13, 2026

وائٹ ہاؤس کے قریب لان پر پراسرار “86 47” کی کندہ کاری، تحقیقات شروع

June 13, 2026
US-Iran Truce in Jeopardy as Hormuz Clashes Flare

مشکل میں جنگ بندی: امن مذاکرات کے درمیان آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی فورسز کا آمنا سامنا

June 13, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.