سیول: جنوبی کوریا کے قومی ڈیٹا سینٹر میں لگنے والی ایک خوفناک آگ نے بعض حکومتی آن لائن خدمات اور داخلی نیٹ ورکس کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے، جس کے بعد حکام ہفتے کے روز نظام کی بحالی اور آگ لگنے کی وجوہات جاننے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حکام کی جانب سے فوری بحالی کے دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ تحقیقات کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ جمعہ کی شب دیکھ بھال کے دوران جنوبی کوریا کی ایل جی انرجی سلوشنز (LG Energy Solutions) کی تیار کردہ لیتھیم آئن بیٹری کے دھماکے سے آگ لگنے کا شبہ ہے، جس سے کچھ سرورز کو نقصان پہنچا اور سینکڑوں دیگر کو بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ فائر فائٹرز اور حکومتی اہلکاروں نے پریس بریفنگز میں بتایا کہ آگ لگنے سے “تھرمل رن وے” کی صورتحال پیدا ہوئی، جس نے دائجون شہر میں نیشنل انفارمیشن ریسورسز سروسز کے سرور روم میں شدید گرمی پیدا کر دی، جس کی وجہ سے فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کے لیے جارحانہ کارروائیاں نہیں کر سکے۔
یہ قومی ڈیٹا سروس اس جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایشیائی ملک کے لیے بہت سی سرکاری خدمات اور ڈیٹا بیس کے لیے ایک کلاؤڈ سرور کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ ملک کے دیگر مقامات پر بھی ڈیٹا سینٹرز چلا رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ رات 8 بج کر 20 منٹ (پاکستانی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 20 منٹ) کے قریب شروع ہونے والی آگ پر ہفتے کی صبح قابو پا لیا گیا، لیکن ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے 600 سے زیادہ سرورز کو جبری طور پر بند رکھا گیا، جبکہ فائر فائٹرز عمارت سے تقریباً 400 بیٹری پیک نکالنے کے لیے حفاظتی اقدامات کے تحت کام کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کی ابتدائی وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ ایل جی انرجی سلوشنز نے تحقیقات جاری ہونے کی وجہ سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
دائجون میں آگ لگنے کے بعد ہفتے کے روز بھی کئی حکومتی وزارتوں، موبائل شناختی نظام، ڈاک سروس اور حکومتی قانونی ڈیٹا بیس سمیت متعدد ویب سائٹس بند رہیں۔ دائجون، جو دارالحکومت سیول سے تقریباً 140 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، میں واقع اس سینٹر کے متاثر ہونے سے کئی وزارتیں ای میل بھی استعمال نہیں کر پا رہی ہیں۔
وزیراعظم کم من سیوک نے ہفتے کو عوام کو درپیش مشکلات پر معافی مانگی اور کہا کہ حکومت خدمات کی تیزی سے بحالی کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد آنے والی ٹیکس ادائیگی کی آخری تاریخوں میں تاخیر کی جائے گی۔ کم من سیوک نے ایک ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ہنگامی اجلاس میں بتایا، “آگ پر قابو پانے میں مشکلات پیش آئیں کیونکہ سرکاری نظام کی اہم نوعیت کی وجہ سے ایک ہی جگہ پر مرکوز تھے۔” انہوں نے مزید کہا کہ دائجون اور قریبی سیجونگ میں کچھ سرکاری ایجنسیوں کے داخلی نیٹ ورکس “مفلوج” ہو چکے ہیں۔ ڈیٹا سینٹر کے سربراہ، لی جے یونگ، نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ خدمات کی بحالی کے لیے کوئی تخمینہ وقت نہیں بتایا جا سکتا۔ ایک فائر اہلکار نے ایک اور پریس بریفنگ میں بتایا کہ ایک شخص کو معمولی چوٹ آئی ہے۔ فائر اہلکار کم کی سیون نے بتایا کہ عمارت کی پانچویں منزل پر جہاں ابتدائی آگ لگی تھی، وہاں کافی نقصان ہوا ہے۔
