پشاور میں عوامی اجتماع سے خطاب
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اتوار کو سیکیورٹی معاملات میں صوبائی حکومت کی جانب سے غفلت کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ پشاور میں ہونے والے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا، “وہ کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا سیکیورٹی معاملات میں سنجیدہ نہیں۔ یہ ہمارا قصور نہیں، آپ کو اپنی پالیسیاں بدلنی چاہئیں۔” وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ وہ صرف تنقید کے لیے تنقید نہیں کرتے بلکہ حل بھی تجویز کرتے ہیں اور پاکستان کے قومی مفاد سے متعلق معاملات پر تعاون کا عزم رکھتے ہیں۔
حکمرانی پر زور اور “ایلٹ مافیا” پر تنقید
سہیل آفریدی نے زور دے کر کہا کہ خیبرپختونخوا میں حکمرانی موجود ہے اور عوام نے ان کی جماعت کو مسلسل تیسری مدت کے لیے منتخب کیا ہے۔ انہوں نے اس کا موازنہ ان علاقوں سے کیا جہاں “آئی ایم ایف نے اپنا چارج شیٹ پیش کیا”۔
ان کا کہنا تھا، “5,300 ارب روپے کسی کی ذاتی جیب سے نہیں لائے گئے؛ یہ ٹیکس دہندگان کے پیسے ہیں۔” انہوں نے الزام لگایا کہ “ایلٹ مافیا اور ملک پر قابض طبقے نے یہ فنڈز لوٹ لیے ہیں۔ ہم انہیں یہ رقم لے جانے نہیں دیں گے۔”
آصف قیصر کا آئینی ترامیم اور سرحدی پالیسی پر موقف
پی ٹی آئی رہنما آصف قیصر نے قانونی اور سرحدی مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی 26ویں اور 27ویں ترمیم نے عدالتوں کو ماتحت بنا دیا ہے اور قوم ایسے اقدامات کے خلاف کھڑی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے متعلق چیلنجز وفاقی سرحدی پالیسی کی ناکامیوں کی عکاسی کرتے ہیں اور انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ امن کو موقع دے۔
دہشت گردی میں اضافے کے اعداد و شمار
افغان طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک پولیس رپورٹ کے مطابق، صرف خیبرپختونخوا میں سال 2025 کے پہلے آٹھ مہینوں میں 600 سے زائد دہشت گردانہ واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں کم از کم 79 پولیس اہلکاروں سمیت 138 شہری شہید ہوئے۔
گورنر رول کی تجویز اور وزیراعلیٰ کا ردعمل
گزشتہ ماہ، وفاقی وزیر برائے قانون عقیل ملک نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت ناقص حکمرانی، دہشت گردی اور افغانستان کے ساتھ سرحدی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے خیبرپختونخوا میں گورنر رول نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔
تاہم، ان تبصروں پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کو اگر ہمت ہے تو صوبے میں گورنر رول نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ صوبے میں کسی اور حکومت کی ضرورت نہیں ہے اور جن لوگوں نے “بند دروازوں کی پالیسیاں” نافذ کی ہیں، انہیں اپنے اقدامات کے نتائج کا احساس ہونا چاہیے۔
