پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران 92 کروڑ روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہ بے ضابطگیاں ایک سال کے عرصے میں اس وقت سامنے آئیں جب شہرام خان ترکئی صوبائی وزیر تعلیم کے عہدے پر فائز تھے۔
ٹیبلٹس کی تقسیم میں 37 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں
رپورٹ کے مطابق ضلعی تعلیمی افسران کے ذریعے نئے بھرتی شدہ اساتذہ کو ٹیبلٹس فراہم کرنے کے عمل میں 37 کروڑ 43 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں کی نشاندہی کی گئی ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 42 کروڑ 47 لاکھ روپے مالیت کے ٹیبلٹس 15 ہزار افراد میں تقسیم کیے گئے تھے۔ اس معاملے کی تحقیقات اور آلات کی تقسیم و واپسی کی جانچ کے لیے بعد ازاں ایک جانچ کمیٹی تشکیل دی گئی۔
صرف 1,779 ٹیبلٹس واپس، 13,221 غائب
کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ صرف 1,779 ٹیبلٹس ہی ڈائریکٹوریٹ کو واپس کیے گئے، جبکہ باقی 13,221 ٹیبلٹس لاپتہ قرار دیے گئے ہیں۔
ان نتائج نے صوبائی محکمہ تعلیم کے اندر خریداری، تقسیم اور احتساب کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ مبینہ بے ضابطگیوں کی ذمہ داری کا تعین اور لاپتہ ٹیبلٹس کا سراغ لگانے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
مردان بورڈ میں کاغذ کی خریداری میں 4 کروڑ 87 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں
مالی سال 22-23 کے دوران بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان میں کاغذ کی خریداری میں 4 کروڑ 87 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئیں۔
- حکومتی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے منظور نذر فرم کو ٹھیکہ دینے سے خزانے کو 19 کروڑ 20 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔
- بورڈ کے چیئرمین نے ایگزیکٹو الاؤنس کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے واپس لیے، جس کا انہیں اختیار نہیں تھا۔
- آڈٹ رپورٹ کے مطابق اسمارٹ فونز کی خریداری کے لیے بھی خزانے سے 1 کروڑ 30 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔
احتساب کے نظام پر سوالیہ نشان
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انکشافات صوبائی محکمہ تعلیم میں شفافیت اور جوابدہی کے فقدان کی عکاسی کرتے ہیں۔ عوامی مفاد میں یہ ضروری ہے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
