لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ بینک اپنے سابق ملازم کے واجب الادا قرض کی وصولی کے لیے اس کے پروویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی اور دیگر ملازمت سے متعلقہ واجبات کا استعمال کرنے کا قانونی طور پر پابند نہیں، اور عدالت ایسے مالی فوائد سے قرض کی واپسی کا حکم نہیں دے سکتی۔
کیس کا پس منظر
گل حسن خان اور دیگر کی جانب سے ایک نجی بینک کے خلاف دائر اپیل پر جسٹس خالد اسحاق اور جسٹس محمد عثمان غنی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے دس صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ تحریر کیا۔
فیصلے کے مطابق اپیل کنندگان نے موقف اختیار کیا کہ بینک کے پاس سابق ملازم کے تقریباً 15 لاکھ روپے پروویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی اور دیگر ملازمت سے متعلقہ واجبات کی صورت میں موجود ہیں، اس لیے باقی ماندہ قرض کی وصولی سے قبل ان واجبات میں سے واجب الادا رقم کاٹ لی جانی چاہیے۔
عدالت کا استدلال
اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے رائے دی کہ محض اس حقیقت کا مطلب یہ نہیں کہ بینک قانونی طور پر ان رقوم کو ملازم کے قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنے کا پابند ہو جائے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ملازمت سے متعلقہ واجبات کی ادائیگی اور قرض کی وصولی دو الگ الگ قانونی معاملات ہیں۔ بینک متعلقہ قانونی تقاضوں کے تابع رہتے ہوئے ایک اکاؤنٹ میں موجود رقوم کو دوسری ذمہ داری کے خلاف ایڈجسٹ کر سکتا ہے، تاہم یہ حق بینک کی صوابدید ہے اور گاہک عدالتی کارروائی کے ذریعے بینک پر اسے مسلط نہیں کر سکتا۔
آجر اور بینکار کی حیثیت میں فرق
عدالت نے مزید کہا کہ پروویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی اور دیگر ملازمت سے متعلقہ واجبات بینک کے پاس بطور آجر موجود ہوتے ہیں، نہ کہ بطور بینکار۔ ایسے فوائد کی تاخیر یا عدم ادائیگی کی صورت میں متعلقہ مجاز فورم سے رجوع کیا جا سکتا ہے، جبکہ بینکنگ عدالت قرض کی وصولی سے متعلق معاملات کی سماعت کرتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ بینک ملازم نے اسی ادارے سے قرض لیا جہاں وہ ملازم تھا، تاہم وہ بینک کو مجبور نہیں کر سکتا کہ واجب الادا قرض اس کے پروویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی یا دیگر ملازمت سے متعلقہ واجبات میں سے کاٹ لیا جائے۔
بینکنگ عدالت کا فیصلہ برقرار
بینکنگ عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نجی بینک کے حق میں 10,177,705 روپے کی وصولی کے جاری کردہ ڈگری میں کوئی قانونی نقص نہیں۔ عدالت نے سابق ملازم اور دیگر اپیل کنندگان کی اپیل مسترد کر دی اور واجب الادا قرض کی وصولی کا فیصلہ برقرار رکھا۔
