لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے جعلی ویڈیو کیس میں صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے بیان پر جرح کے لیے ان کی ذاتی پیشی کا حکم معطل کر دیا ہے اور ان کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد روک دیا ہے۔
عدالت کی کارروائی
جسٹس اظہر گل خان نے عظمیٰ بخاری کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکلاء علی زید بخاری اور بیرسٹر موسیٰ نے عدالت کے سامنے دلائل پیش کیے اور بتایا کہ صوبائی وزیر اطلاعات سے متعلق جعلی ویڈیو کیس فی الوقت ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
دفاعی دلائل
وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ عظمیٰ بخاری کو ایک اعلیٰ سرکاری عہدے دار کی حیثیت سے سکیورٹی خدشات درپیش ہیں، جس کی وجہ سے ان کی ٹرائل کورٹ میں ذاتی پیشی مشکل ہے۔
- ٹرائل کورٹ نے عظمیٰ بخاری کو ان کے بیان پر جرح کے لیے طلب کیا تھا۔
- لاہور ہائی کورٹ میں معاملہ زیر التوا ہونے کے باوجود پیشی نہ ہونے پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔
- درخواست گزار کے وکلاء نے وارنٹ گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کرنے کی استدعا کی۔
- انہوں نے مطالبہ کیا کہ عظمیٰ بخاری کی جرح ویڈیو لنک کے ذریعے کی جائے بجائے اس کے کہ انہیں جسمانی طور پر ٹرائل کورٹ میں پیش ہونا پڑے۔
عدالت کا حکم
دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے عظمیٰ بخاری کی ذاتی پیشی کا حکم معطل کر دیا اور حکام کو ان کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد سے روک دیا۔
عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ کیس میں دیگر گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرے اور ان گواہوں کی حد تک کارروائی جاری رکھے۔
