geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
October 8, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Muscle Dysmorphia Is Rising Among Teen Boys: How Parents Can Helpبگوریکسیا: نوجوان لڑکوں میں بڑھتا ہوا خاموش خطرہ اور والدین کا کردار
    • خوشبو اور ذائقے کے علاوہ زعفران کے ممکنہ طبی فوائدزعفران: صرف ذائقہ ہی نہیں، صحت کے لیے ممکنہ فوائد بھی
    • AI Suspicion Spreads From Books to Private Messagesمصنوعی ذہانت کا شک: ادب سے روزمرہ زندگی تک ہر جگہ سوالیہ نشان
    صحت و تندرستی
    • France Moves to Ban Energy Drinks for Under-16sفرانس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کو انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی کی سفارش
    • Fridge or Pantry? The Definitive Guide to Storing Your Food Correctlyکون سی غذائیں فریج میں رکھنی چاہئیں اور کون سی باہر؟
    • France Begins Reimbursing Reusable Period Products Under 26 and for Low-Income Recipientsفرانس میں ماہواری کے دوران استعمال ہونے والی مصنوعات کی صحت بیمہ سے ادائیگی کا آغاز
    دلچسپ اور عجیب
    • Muscle Dysmorphia Is Rising Among Teen Boys: How Parents Can Helpبگوریکسیا: نوجوان لڑکوں میں بڑھتا ہوا خاموش خطرہ اور والدین کا کردار
    • AI Suspicion Spreads From Books to Private Messagesمصنوعی ذہانت کا شک: ادب سے روزمرہ زندگی تک ہر جگہ سوالیہ نشان
    • When Your Child's Name Becomes Too Popularالمقبول ناموں کا بوجھ: جب والدین کو اپنے بچوں کے نام پر پچھتاوا ہوتا ہے
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • OpenAI Pulls GPT-6.1 Astra at the Last Minute, Handing Washington a New Argument for AI Rulesاوپن اے آئی کا جی پی ٹی 6.1 ایسٹرا لانچ ملتوی، حفاظتی خدشات سامنے آ گئے
    • AI in the Classroom: How French Universities Are Struggling to Adaptمصنوعی ذہانت کا طوفان: تعلیمی ادارے کیسے خود کو ڈھال رہے ہیں؟
    • SpaceX Starship Reaches Earth Orbit for the First Time in Historic Test Flightاسپیس‌ایکس کا اسٹارشپ راکٹ پہلی بار زمین کے مدار میں پہنچ گیا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

عمل سے زندگی بنتی ہے

November 23, 2021November 23, 2021 2 1 min read
Life
Share this:

Life

تحریر: روبینہ شاہین

زندگی معاشرے سے جڑا ہوا ایک اٹوٹ انگ ہے۔ ہم زندہ ہیں تو ہمیں معاشرے اور اپنے ساتھ جڑے ہوئے رشتوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے چاہے وقت کوئی بھی حالات کوئی بھی ہوں، معاشرے اور رشتوں سے علیحدہ ہو جائیں تو جذبوں کے ساتھ انسان بھی مر جاتے ہیں۔

آج سے کچھ سال پہلے کا دور مشینی دور کہلاتا تھا لیکن آج تو دور ان مشینوں سے بھی کہیں زیادہ تیز ہو گیا ہے۔ یہ انٹرنیٹ کا دور بن گیا اب تو مشین نہیں چلانی پڑتی صرف فنگر ٹپس اور انگوٹھے کا نشان ہی زندگی کو دوڑانے کیلئے کافی ہے۔ صرف پوسٹ اور باتیں شیئر ہو جائیں تو کافی مگر عمل ہماری زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ کیا ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سوچ اور عمل کو لے کر ساتھ چل رہے ہیں۔ایک بزرگ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک جواں سال لڑکے نے ہاتھ میں عقیق کی انگوٹھی پہنی تھی۔شفقت سے پوچھتے ہیں بیٹا یہ انگوٹھی کیوں پہنی ہوئی ہے۔ لڑکا مسکرا کر بابا جی سے مخاطب ہوا۔ بابا جی یہ عقیق کا پتھر ہے پتہ نہیں آپ کو یہ سنت رسول ہے۔ اچھا بیٹا یہ سنت رسول ہے۔

بابا جی مسکرائے بیٹا صرف پتھر پہن کر ثابت کرتے ہو سنت رسول یا عمل بھی کرتے ہو۔ کیا مطلب بابا جی۔ لڑکے نے حیران ہو کر بابا جی کو دیکھا۔ مطلب یہ ہے بیٹا ماں اور باپ کی خدمت کرتے ہو، دوسروں کو معاف کرتے ہو، کسی کا راستہ روک کر اس کی زندگی میں تنگی تو پیدا نہیں کرتے، دوسروں کی زندگیوں کو آسان بناتے ہو، راستے سے پتھر اٹھاتے ہو، کیا یہ سنت رسول نہیں۔

بابا جی نے شفقت بھری مسکراہٹ کے ساتھ اس لڑکے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ہم خوش قسمت لوگ ہیں کہ ہمیں پریکٹیکل اسلام ملا ہے۔ سنت صرف وہی ہے جو آپ کا دماغ کہتا ہے یا وہ تمام تعلیمات بھی سنت رسول ہیں جو ہمارے نبی کریم نے ہمارے لئے مشعل راہ بنائیں۔ مسلمان ہونے کیلئے تو صرف پانچ ارکان ماننے ضروری ہیں۔ کلمہ، نماز، روزہ، حج اور زکوٰة اور آپ کو سندمل جائے گی۔ آپ مسلمان ہومگر مکمل انسان اور مکمل مسلمان بننے کیلئے آپ کو سنت رسول پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ فرض، سنت اور نفل کو ان کی اپنی جگہ پر اہمیت دینا اور عمل کرنا سنت ہے۔ آپ کبھی نفل کو سنت اور فرض کی جگہ پر نہیں لے جا سکتے۔

اسلام نے تو زندگی کے ہر شعبے کو برملا واضح کر دیا ہے۔ ہماری سوسائٹی پریکٹیکل طور پر اخلاقی لحاظ سے تباہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایمانداری میں ہمارے ملک کا 162نمبر ہے۔ ہم نے پریکٹیکل کو کبھیpriority نہیں دی۔ اگر ہمارا عشق ہمارے رسول سے ہے تو ہم ان کو پڑھتے کیوں نہیں۔ اس طرح کا باب تو دنیا کی تاریخ میں نہیں ملے گا جو بیٹی کیلئے چادر بچھاتا ہوتا ہو۔ جہاد بڑا ضروری ہے لیکن اس صحابی کا واقعہ بھی ہے جس نے کہا میرے ماں باپ بیمار ہیں۔میں جہاد میں حصہ نہیں لے سکتا۔

آپ نے فرمایا جا جا کر ان کی خدمت کر۔ یہ بتا دیا کہ والدین کی خدمت جہاد سے افضل ہے۔ جب تک آپ پریکٹیکل نہیں ہو تب تک کچھ نہیں ہونے والا دنیا میں۔ سب سے زیادہ اہمیت ہمارے نبی کریم ہیں۔ دین تو آسانی پیدا کرتا ہے خیر کا رستہ اور میانہ روی دیتا ہے۔ اللہ کو بھی یاد رکھو اور دنیا داری بھی پوری کرو، کماو ¿ حلال کا رزق، خاندان کا حق ادا کرو۔ اگر آپ اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ کہتے ہو کہ میں سچا ہوں تو آپ کے ذہن کی سوچ ہے۔ یقین کریں انسان کی کھال اتارنی آسانی ہے مگر اپنی سوچ صحیح کرنا مشکل۔ آپ آپ خود کو حق پر سمجھتے ہیں مگر پانچ سال بعد پتہ چلے آپ غلط تھے۔

صرف سننا پڑھنا اور تبلیغ کرنا ہی دین نہیں بلکہ عملی کردار دین ہے۔ اپنی سوچ کو اتنا تنگ نہ کرو کہ آپ ان معاملات کو جو اللہ کی ذمہ داری ہے، اس پر جج کرنا شروع کر دیں۔ اللہ کے کام اللہ پر چھوڑیں، کسی کو یقین نہیں کہ وہ بخشا ہوا ہے مگر صرف ہمیں اللہ پر یقین رکھنا ہے کہ ہم جیسے بھی ہیں جو بھی ہیں، اس کی رحمت لامحدود ہے وہ ہمیں بخش دے گی مجھے معاف کر دے گی۔ اس پر یقین رکھو تو اپنے روپے میں بھی تبدیلی پیدا کرنا چاہیے۔
Society

ایک عمل جس سے دین کو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر کلمہ اس سے دین کو فرق پڑتا ہے۔ ایک بندہ سب کچھ کرتا ہے مگر ماں باپ کا گستاخ ہے، کچھ نہیں ہے گھاٹے کا سودا ہے۔ تمام پریکٹیکل چیزوں کو پڑھیں اور سمجھیں کہ ھق کیا ہے، قربانی کیا ہے، زندگی کس کے نام گزارنی چاہیے۔

مگر آج کی دنیا نے روایتوں کو زندگی بنا دیا ہے جہاں ہماری معاشرتی روایات آ جاتی ہیں وہاں دین کی پریکٹیکل اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ ہم ہر رسم و رواج کو اپنی سوچ کے مطابق بدل کر اپنی مرضی کا دین بنا دیتے ہیں۔ ان سب سوچوں اور پریکٹیکل حالات کا دوسروں پر کیا اثر پڑتا ہے۔ ہمیں کبھی احساس بھی نہیں ہوتا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی سوچ کا دائرہ بدل کر اپنے اعمال کو بھی صحیح راستے پر لے کر چلیں تاکہ ہمارے ساتھ دوسروں کی زندگیاں بھی آسان ہوں۔ ہم مکمل مسلمان ہیں یہ ہمیں دنیا کے سامنے ثابت کرنا ہے صرف اپنے صحیح اور نیک اعمال سے۔

تحریر: روبینہ شاہین

Share this:
Imran Khan
Previous Post وزیراعظم پاکستان کی دل آویز نصیحتیں
Next Post کنگنا رناوت کی بکواس اور بدلتے حالات منظر نامہ
Kangana Ranaut and Narendra Modi

Related Posts

France Moves to Ban Energy Drinks for Under-16s

فرانس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کو انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی کی سفارش

October 7, 2026
KSE-100 Keeps Climbing as Bulls Extend Grip on Pakistan Stock Exchange

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار، کے ایس ای 100 انڈیکس 377 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 168,837 پوائنٹس پر پہنچ گیا

October 7, 2026
Tragedy in Balochistan: Two Teenage Brothers Killed by Toxic Gas in Abandoned Coal Mine

ڈکی میں بند کوئلے کی کان میں زہریلی گیس، دو بھائی جاں بحق

October 7, 2026
Tragedy in Khanewal: Child Killed, Five Injured as Dilapidated Roof Collapses

کبیروالا میں چھت گرنے سے بچہ جاں بحق، ماں اور چار بچے زخمی

October 7, 2026

Popular Posts

1 Vladimir Putin

امریکی میزائل تجربے کا جواب دیا جائے، پوٹن کی ہدایات

2 Imad Wasim

قومی کرکٹر عماد وسیم بھی رشتہ ازدواج میں منسلک

3 Meeting

انجینئر افتخار چودھری نے ریاٹرڈ جرنیل ڈاکٹر محمد مصطفی الجہنی سے ملاقات کی

4 Shah Mahmood Qureshi - António Guterres

شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان رابطہ طے پا گیا

5 Khamisani Socail Welfare Trust

محمد سلیم خمیسانی کا سیفی ویلفیئر سوسائٹی کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد

6 Indian Army in Kashmir

کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باوجود ہزاروں کشمیریوں کا بھارت کیخلاف مظاہرہ

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.