فرانس کے شہر لیموژ میں سٹی ہال (ٹاؤن ہال) کو آگ لگانے کے واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں 40 سالہ شخص کو منگل کی صبح گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ہفتہ 17 اکتوبر کو گرانیِ زندگی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش آیا تھا، جس میں عمارت کا اندرونی حصہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے پراسیکیوٹر کے دفتر اور کیس سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ملزم کو بالائی ویین ڈیپارٹمنٹ میں حراست میں لیا گیا۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق یہ شخص انتہائی بائیں بازو کی تنظیموں سے وابستگی کے لیے جانا جاتا ہے اور سرکاری اہلکار پر تشدد کے واقعے میں بھی ملوث رہا ہے۔
تفتیش اینٹی ٹیررزم یونٹ کے حوالے
کیس کی سنگینی کے پیش نظر فرانس کی انسدادِ دہشت گردی ذیلی ڈائریکٹوریٹ (ایس ڈی اے ٹی) کو تفتیش سونپ دی گئی ہے، جو شدت پسندی کے خلاف سرگرم ادارہ ہے۔ ملزم کو ویل ڈی ایسوار نامی علاقے میں پولیس کے خصوصی یونٹ رائد کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وہ پڑوسی ڈیپارٹمنٹ کروز کا رہائشی ہے۔
فرانسیسی وزیرِ انصاف جیرالڈ ڈارمینن نے اس حوالے سے کہا کہ تفتیشی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ کوئی منظم اور دہشت گردانہ کارروائی تھی، جس کا مقصد نظریاتی یا سیاسی بنیادوں پر خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ انتہائی بائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے منظم کارروائی کی نشاندہی کرتا ہے اور ایسی قوتوں کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
احتجاجی مظاہروں کے دوران بھڑکی آگ
واضح رہے کہ 1883 میں افتتاح ہونے والی سٹی ہال کی قدیم عمارت کو ہفتہ 17 اکتوبر کو دانستہ طور پر آگ لگائی گئی تھی۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے جاری تھے اور کئی شہروں میں احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات اور لوٹ مار کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
فرانسیسی حکام نے واقعے کے بعد کہا تھا کہ سٹی ہال کا اندرونی حصہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں چھاپوں اور تفتیشی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو فرانس میں احتیاط برتنے کی ہدایت بھی کی تھی۔
