پیرس: فرانس میں صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پابندی کی تجویز نے امریکی ارب پتی ایلون مسک اور ماہر ماحولیات رہنما میرین ٹونڈیلیئر کے درمیان ایک زہریلی لفظی جنگ چھیڑ دی۔ یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب مسک نے ٹونڈیلیئر کو “فرانس کے خلاف غداری” پر خاموش کرانے کا مطالبہ کر دیا۔
یہ تنازع 6 اگست 2026 کو اس وقت عروج پر پہنچا جب ایکس کے مالک ایلون مسک نے سبز جماعت کی سربراہ اور صدارتی امیدوار میرین ٹونڈیلیئر کے ایک بیان پر برہمی کا اظہار کیا۔ ٹونڈیلیئر نے انتخابات کے دوران ممکنہ غیر ملکی مداخلت کے پیش نظر اس پلیٹ فارم پر پابندی کی وکالت کی تھی۔
غیر ملکی مداخلت پر سخت موقف
فرانسیسی اخبار لبریشن کو انٹرویو دیتے ہوئے میرین ٹونڈئر نے کہا تھا کہ “انتخابات کے دوران ایکس جیسے پلیٹ فارمز کو بند کرنے کی دھمکی دینا ضروری ہے”۔ ان کا اصرار تھا کہ یہ پابندی خاص طور پر اس وقت نافذ کی جانی چاہیے جب پہلے سے مداخلت کے شواہد موجود ہوں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایکس کا الگورتھم جمہوری زندگی میں ایک بہت بڑی مداخلت ہے۔ ٹونڈیلیئر نے مزید کہا کہ “یہ آلہ ایک ایسے شخص کی ملکیت ہے جو امریکہ میں بیٹھا ہے، جس کا نظریہ بالادستی پر مبنی ہے اور جو واضح طور پر یورپ کو امریکہ کے سامنے مکمل طور پر جھکانا چاہتا ہے۔”
مسک کا سخت ردعمل
ٹونڈیلیئر کی اس تجویز کی خبر سوشل میڈیا پر پھیلتے ہی ایلون مسک نے خود اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے انگریزی میں لکھے گئے ایک جارحانہ پیغام میں کہا: “میں مطالبہ کرتا ہوں کہ فرانس کے خلاف غداری پر اسے خاموش کرایا جائے!”
اس پر فرانسیسی سیاست دان نے فوری طور پر دو زبانوں میں جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے لکھا: “محترم ایلون مسک، میں وہ فرانسیسی صدارتی امیدوار ہوں جسے آپ ‘فرانس کے خلاف غداری’ پر خاموش کرانا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے اپنے پیغام میں طنزیہ انداز میں کہا: “فرانس کو کسی غیر ملکی ارب پتی سے حب الوطنی کا سبق لینے کی ضرورت نہیں جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ کن یورپی سیاسی رہنماؤں کو چپ کرایا جائے۔”
ٹونڈیلیئر نے اپنے موقف کو دوٹوک الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا: “جمہوریت برائے فروخت نہیں۔ دنیا کے امیر ترین آدمی کو بھی نہیں۔ میں جمہوریت کے دفاع کا الزام لگنا پسند کروں گی بجائے اس کے کہ اسے خریدنے کی کوشش کروں۔”
میرین لی پین کی حمایت کا پس منظر
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایلون مسک نے حال ہی میں فرانس کی دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین کی کھل کر حمایت کی تھی۔ جولائی کے وسط میں، مسک نے ایکس پر لکھا تھا کہ “وہ فرانس کی آخری امید ہیں۔”
نیشنل ریلی پارٹی کے نائب صدر سیبسٹین چینو نے بعد میں ان تنقیدوں کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکی ارب پتی صرف “اپنی رائے” دے رہے ہیں اور یہ انتخابات میں مداخلت نہیں ہے۔
یہ واقعہ فرانسیسی سیاست میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے بڑھتے ہوئے کردار اور غیر ملکی اثر و رسوخ کے خدشات پر ایک نئی بحث کا آغاز کر گیا ہے۔
