منی سوٹا کے شہر منی ایپلس کے ایک کیتھولک اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں تین افراد ہلاک اور 17 دیگر زخمی ہوگئے۔ مقامی حکام کے مطابق، سیاہ لباس میں ملبوس مسلح شخص نے اسکولی بچوں پر عبادت کے دوران فائرنگ کی۔
مسلح شخص، جو کہ تقریباً 20 کی دہائی کا جوان تھا، نے چرچ کی کھڑکیوں سے فائرنگ کرتے ہوئے خودکشی کر لی۔ و ہ اپنے ساتھ بندوق، شاٹ گن اور پستول لایا تھا۔ پولیس چیف برائن او’ہارا نے واقعے کو بچوں اور معصوم لوگوں پر بربریت قرار دیا۔
فائرنگ کا واقعہ اننسی ایشن کیتھولک اسکول میں پیش آیا، جو کہ ایک نجی اسکول ہے اور چرچ کے ساتھ ملحقہ ہے۔ واقعے کے فوری بعد والدین کو پیلے ٹیپ کے نیچے سے بچوں کو اسکول سے محفوظ نکالتے دیکھا گیا۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ مجرم کا کوئی سنگین مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا، اور تفتیش جاری ہے کہ حملے کا مقصد کیا تھا۔ عہدیدار یہ بھی معلوم کر رہے ہیں کہ آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیوز کا حملہ آور سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
قریبی ہسپتالوں نے تصدیق کی ہے کہ 15 بچے اور دو بالغ زخمیوں کا علاج جاری ہے، جن میں سے زیادہ تر کو گولی لگنے سے زخم آئے ہیں۔
منی ایپلس کے مئیر جیکب فرے نے واقعے پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بچے چرچ میں عبادت کر رہے تھے جب ان پر حملہ ہوا۔ گورنر ٹِم والز نے متاثرہ بچوں اور اساتذہ کی خیریت کے لئے دعائیں کی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واقعے کی مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد متاثرین کی صحتیابی کے لئے دعا کی درخواست کی ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب ملک بھر میں تعلیمی اداروں میں سکولی فائرنگ کے واقعات کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ موسمی چھٹیوں کے بعد بچوں کی واپسی پر یہ حالیہ حملوں کی کڑی ہے جس سے معاشرتی قائدین، والدین اور طلبہ سبھی میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
