کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام ملک کے استحکام کے لیے ضروری ہے اور نئے صوبوں کی تشکیل ان کی جماعت کا کوئی نیا موقف نہیں بلکہ یہ مطالبہ اس وقت سے موجود ہے جب ایم کیو ایم ایک طلبہ تحریک کی صورت میں سرگرم تھی۔
نارتھ ناظم آباد ریزیڈنٹس کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر انتظامی یونٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے، کیونکہ عوام کی ضروریات کے مطابق انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانا ملکی استحکام کے لیے لازمی ہے۔
کراچی کو سندھ کا حصہ بنانے پر سوال
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے کہا کہ پاکستان ہمارے بزرگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ وہ قائداعظم کے پاکستان میں آئے جہاں کراچی ملک کا دارالحکومت تھا، تاہم بعد ازاں دارالحکومت کی تبدیلی اور انتظامی ڈھانچے میں ردوبدل نے کراچی کے حوالے سے مسائل پیدا کیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کراچی کو اس کے عوام سے مشاورت کے بغیر سندھ کا حصہ بنایا گیا اور جب صوبے بحال کیے گئے تو اس حوالے سے کوئی ریفرنڈم یا ووٹنگ نہیں کرائی گئی۔
مہاجر صوبے سمیت دیگر صوبوں پر موقف
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کبھی صرف کراچی یا مہاجر صوبے تک محدود نہیں رہا۔ ان کے مطابق جہاں سرائیکی آبادی ہے وہاں سرائیکی صوبہ بنایا جا سکتا ہے اور ہزارہ صوبہ بھی قائم کیا جا سکتا ہے، تاہم مہاجر آبادی کے لیے صوبے کے قیام کے حوالے سے مختلف سوالات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی ڈھانچے اور اختیارات کی تقسیم کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاروں صوبے لسانی بنیادوں پر قائم کیے گئے، جس کی وجہ سے مشترکہ پاکستانی شناخت کا تصور مشکلات کا شکار ہے۔
- نئے انتظامی یونٹس کا قیام ملکی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔
- نئے صوبوں کا مطالبہ طلبہ تحریک کے دور سے موجود ہے۔
- کراچی کو مشاورت کے بغیر سندھ میں شامل کرنے پر تحفظات کا اظہار۔
- سرائیکی اور ہزارہ صوبوں کے قیام کی حمایت۔
- صوبائی ڈھانچے اور اختیارات کی تقسیم پر نظرثانی کی ضرورت۔
