آسٹریلیا: بونڈی بیچ فائرنگ کے دوران ایک مسلمان نے بندوق بردار کو گرایا، ہیرو قرار

واقعے کا خلاصہ

آسٹریلیا کے سڈنی میں واقع بونڈی بیچ پر یہودی تہوار کے موقع پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں ایک مسلمان شہری احمد نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بندوق بردار کو گرایا اور اس سے ہتھیار چھین لیا۔ اس حملے میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سفید قمیض پہنے ایک شخص پارکنگ میں تاریک قمیض پہنے ایک شخص کی طرف دوڑتا ہے جو رائفل تھامے کھڑا ہے۔ احمد نے پیچھے سے حملہ آور کو گرایا، اس سے رائفل چھینی اور پھر اس کی طرف ہی بندوق تان لی۔

احمد کی زخمی حالت اور خاندان کا بیان

بہادری کے اس عمل کے دوران احمد خود کم از کم دو گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔ ان کے کزن مصطفیٰ نے بتایا کہ احمد کے بازو اور ہاتھ میں گولیاں لگی ہیں اور وہ سینٹ جارج ہسپتال میں سرجری کروا رہے ہیں۔ مصطفیٰ نے کہا، “ہمیں معلوم نہیں کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ وہ سو فیصد ہیرو ہیں۔”

احمد کے بارے میں مزید معلومات

رپورٹس کے مطابق، احمد سڈنی کے سدرلینڈ شائر کے رہائشی ہیں اور پھل کی تجارت سے وابستہ ہیں۔ ان کا فائرنگ کے ہتھیاروں سے کوئی تجربہ نہیں ہے اور وہ بونڈی کے دورے پر تھے جب انہوں نے یہ فائرنگ ہوتے دیکھی۔

آسٹریلوی قیادت کی تعریف

آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے ان آسٹریلوی شہریوں کے اقدامات کی تعریف کی جنہوں نے “دوسروں کی مدد کے لیے خطرے کی طرف دوڑ لگائی۔” انہوں نے کہا کہ “یہ آسٹریلوی ہیرو ہیں اور ان کی بہادری نے جانیں بچائی ہیں۔” نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز نے اس منظر کو “میری زندگی کا سب سے ناقابل یقین منظر” قرار دیا۔

حملہ آوروں کے بارے میں تفتیش

پولیس کے مطابق ایک مشتبہ بندوق بردار ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا تشویشناک حالت میں ہے۔ پولیس تیسرے حملہ آور کے ملوث ہونے کے امکان کی تحقیقات کر رہی ہے۔ آسٹریلوی انٹیلی جنس اہلکار مائیک برجس نے بتایا کہ ایک مشتبہ حملہ آور حکام کے علم میں تھا لیکن اسے فوری خطرہ نہیں سمجھا گیا تھا۔