آسٹریلوی پولیس کا دعویٰ: 15 افراد کے قتل کا الزام باپ بیٹے پر
آسٹریلوی پولیس کے مطابق، سڈنی کے بونڈی ساحل پر یہودی تہوار کے موقع پر 15 افراد کے قتل کے الزام میں گرفتار دو ملزمان باپ اور بیٹے ہیں۔ پولیس نے پیر کے روز بتایا کہ 50 سالہ ساجد اکرم اور ان کے بیٹے نوید اکرم پر یہ مقدمہ درج ہے۔
ملزم کی ماں نے کیا بتایا؟
آسٹریلوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، نوید کی ماں ویرینا نے بتایا کہ ان کا بیٹا بے روزگار اینٹ چننے والا مزدور تھا اور اسے تقریباً دو ماہ قبل نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا جب کمپنی دیوالیہ ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ نوید نے اپنے خاندان سے آخری بار اتوار کی صبح بات کی تھی اور اس نے اپنے والد کے ساتھ ماہی گیری کے لیے سفر کا ذکر کیا تھا۔
خاندانی پس منظر اور رہائش
رپورٹس کے مطابق:
- نوید اکرم 2001 میں آسٹریلیا میں پیدا ہوا اور اس کی شہریت آسٹریلوی ہے۔
- والد ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا آئے تھے۔
- خاندان سڈنی کے مغربی مضافاتی علاقے بونی ریگ میں ایک تین بیڈروم کے گھر میں رہتا تھا۔
- ویرینا گھر پر رہنے والی والدہ ہیں جو اپنی بزرگ ماں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔
ماں کا ردعمل اور موجودہ صورتحال
ویرینا نے میڈیا کو بتایا کہ وہ فائرنگ کے منظر کی تصویر سے اپنے بیٹے کو پہچان نہیں سکیں۔ انہوں نے کہا، “میرا بیٹا تشدد یا انتہا پسندی میں ملوث نہیں ہو سکتا۔ اس کے پاس تو کوئی فائرآرم بھی نہیں ہے۔” رپورٹس کے مطابق، نوید کو فائرنگ کے موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ پولیس کی نگرانی میں ہسپتال میں تشویشناک حالت میں ہے۔
پولیس کی کارروائی اور تحقیقات
پولیس ملزم کے بونی ریگ میں واقع گھر پر موجود ہے اور عوام کے لیے اس علاقے میں داخلہ ممنوع ہے۔ آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے تصدیق کی ہے کہ ساجد اکرم کے امیگریشن ریکارڈ پر کام جاری ہے۔ یہ واقعہ آسٹریلیا میں اسلحہ کے قوانین میں مزید سخت اقدامات پر بحث کا باعث بنا ہے۔