مکہ مکرمہ: لاکھوں مسلمان عازمینِ حج جذباتی مناظر کے درمیان جمعہ کے روز مکہ مکرمہ سے رخصت ہونا شروع ہو گئے۔ انہوں نے شدید گرمی اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے تلے اس عظیم روحانی سفر کی تکمیل کی۔ اس سال دنیا کے 165 ممالک سے 1.7 ملین زائد افراد نے اس عظیم ترین مذہبی اجتماع میں شرکت کی، جس کے پس منظر میں امریکی اسرائیلی حملوں سے ایران کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی کا طویل سایہ موجود رہا۔
فروری میں جنگ چھڑنے کے بعد سے تہران نے ڈرون اور میزائلوں کی لہروں سے جوابی کارروائی کی، جس نے سعودی عرب سمیت خلیج بھر میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان حالات کے باوجود 30,000 سے زائد ایرانی شہریوں نے مکہ مکرمہ کا سفر کیا، جو اصل متوقع 86,000 عازمین کا تقریباً ایک تہائی ہیں۔ ایران کی سرکاری خبر ایجنسی ارنا نے اس کمی کی وجہ “جنگی صورتحال” کو قرار دیا۔
عازمین کی دلی خوشی اور آنسو
پہلی بار حج کی سعادت حاصل کرنے والے 37 سالہ مصری شہری احمد ممدوح نے کہا، “مجھے یقین نہں آتا کہ میں نے حج مکمل کر لیا۔” انہوں نے اپنے آنسو روکتے ہوئے مزید کہا: “میں بہت خوش ہوں کہ میں نے تمام مناسک بحفاظت مکمل کر لیے۔ حج واقعی تھکا دینے والا ہے، خاص طور پر اتنے گرم موسم میں۔”
74 سالہ الجزائری عازم الحج الزاوی نے اپنی اہلیہ کے کندھے پر بازو رکھتے ہوئے جذباتی انداز میں بتایا، “یہ ہمارا خواب تھا کہ ہم ایک ساتھ حج کریں۔ اب شادی کے 50 سال بعد وہ خواب پورا ہو گیا ہے۔”
منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کی رسم
جمعہ کے روز عازمین وادی منیٰ میں شیطان کی علامتی ستونوں کو کنکریاں مارنے کی رسم کا تیسرا دن مکمل کریں گے۔ یہ مقام مکہ مکرمہ کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ اس کے بعد عازمین بسوں کے ذریعے مسجد الحرام پہنچیں گے تاکہ الوداعی طواف کریں، جس میں وہ خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگاتے ہیں۔
حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو استطاعت رکھتا ہو۔ اس سال حج کے زیادہ تر مناسک شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے ادا کیے گئے۔ گزشتہ سال 2024 کے حج میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جانے کے باعث 1,300 سے زائد عازمین کی اموات کے بعد، سعودی حکام نے گرمی سے بچاؤ کے خصوصی اقدامات متعارف کروائے، جن میں سایہ دار مقامات کی توسیع اور ہزاروں اضافی طبی کارکنوں کی تعیناتی شامل تھی۔
سعودی ہلال احمر نے جمعرات کو بتایا کہ اس نے “حج سیزن کے آغاز سے لے کر اب تک 83,000 سے زائد افراد کو ہنگامی طبی خدمات فراہم کی ہیں۔”
